پاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے دوران گرائے گئے طیاروں کی تعداد بڑھا کر 10کر دی ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے بیانات میں بھارت کے سات اور آٹھ طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔
فاکس بزنس پر بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران امریکا کی تجارتی پالیسی اور ٹیرف سے متعلق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کروائیں اور ان میں سے کم از کم چھ جنگیں ٹیرف کی وجہ سے ختم ہوئیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں متعلقہ ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے جنگ بند نہ کی تو ان پر ٹیرف عائد کردیا جائے گا کیونکہ وہ لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں وہ تمام ممالک سوال کرتے تھے کہ ٹیرف کا جنگ سے کیا تعلق ہے لیکن ان ممالک کو واضح کیا گیا کہ ان کی بات نہ مانی گئی تو ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی تھی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور حملے جاری تھے، اس دوران دس طیارے بھی گرائے گئے۔انٹرویو میں ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم ایک کروڑ جانیں بچانے پر انہوں نے مجھے سراہا کیونکہ میرے خیال میں یہ تنازع ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ٹیرف کا دبا نہ ہوتا تو یہ جنگ بندی ممکن نہ تھی۔انہوں نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان دہائیوں پر محیط تنازع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگست 2025 میں ان کی ثالثی میں ابتدائی امن معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی آئی۔انٹرویو کے دوران ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا اس وقت ایران کی طرف رواں دواں ہے، میرا خیال ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ بے وقوفی ہوگی۔ ہم نے پچھلی دفعہ جوہری طاقت چھینی تھی اس دفعہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہم مزید کیا کرسکتے ہیں۔
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے گزشتہ 50 برسوں کے تمام امریکی صدور کو تجارت کے معاملے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تجارت کے شعبے میں ان سے بہت بہتر ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس تنازع کے دوران طیارے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے پانچ طیارے گرائے جانے کی بات کی، اکتوبر میں یہ تعداد سات اور نومبر میں آٹھ طیاروں تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ تعداد دس ہوگئی ہے۔ٹرمپ بارہا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں تاہم بھارت ٹرمپ کے ان دعوں سے اختلاف کرتا آرہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی صدر ٹرمپ کی مداخلت اور ٹیرف لگانے کی دھمکی کے باعث ممکن ہوئی۔یاد رہے کہ اپریل 2025 میں بھارت نے بغیر کسی شواہد کے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جنگ ہوئی، جس میں پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر دفاع کا رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ وزیر دفاع کا رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ حکومتِ جاپان، یو این اور جائیکا کا خیبر پختونخوا میں اسکولوں کی آفات سے تحفظ کی صلاحیت بڑھانے کیلئے معاہدہ وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس چین کا لانگ مارچ-10 راکٹ کا لو ایلٹی ٹیوڈ پرواز کا کامیاب تجربہ سانحہ ترلائی اسلام آباد کی شدید مذمت، الزہرا انٹرنیشنل قرآنک انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب کامیابی سے منعقد ایف آئی اے افسران کیلئے وردی پہننا لازمی، ڈی جی کا بڑا حکم جاری،تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طیارے گرائے صدر ٹرمپ کا امریکی صدر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔