ہم سندھ اسمبلی کے باہر بوریا بستر لے کر آرہے ہیں، جماعت اسلامی کا دھرنا تاریخی ہوگا، ایم پی اے محمد فاروق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی کے واحد جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی 14 فروری کو بوریا بستر لے کر سندھ اسمبلی کے باہر پہنچے گی اور ایک تاریخی دھرنا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر پولیس کارروائی، منعم ظفر کا کارکنان کو پُرامن رہنے کی ہدایت
اپنی حالیہ گرفتاری اور رہائی کے بعد وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے باہر 8 فروری کے اس الیکشن کی دوسری سالگرہ منانے کے لیے جمع ہوئے تھے جسے وہ دھاندلی زدہ سمجھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا مقصد ایک میڈیا ٹاک اور عوامی پریس کانفرنس کرنا تھا نہ کہ احتجاج۔
محمد فاروق نے کہا کہ وہ لوگ جو اقتدار میں ہیں اور جنہوں نے فارم 47 کے نتائج سے فائدہ اٹھایا انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے پریس کانفرنس کو سبوتاژ کیا اور اظہار رائے کی آزادی کو دبایا۔
انہوں نے کہا کہ جب جماعت اسلامی کے ارکان جمع ہوئے تو ان کا ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیا گیا اور میزیں الٹ دی گئیں جس کے باوجود پریس کانفرنس شروع ہوئی لیکن حکام نے مداخلت کی اور اسے روکنے کے احکامات پر عمل کیا اور نتیجے کے طور پر کئی ارکان بشمول ایک 70 سالہ بزرگ، کراچی کے رہنما، ایک ضلعی رہنما، کے ایم سی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور خود ان کو گرفتار کر لیا گیا اور کارکنوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈھائی گھنٹے تک بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھا گیا۔
مزید پڑھیے: کراچی: پولیس کا جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر دھاوا، رکن سندھ اسمبلی سمیت متعدد رہنما گرفتار
ایم پی اے کے مطابق جب انہوں نے اسمبلی میں ’پوائنٹ آف آرڈر‘ پر بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے ان سے وقت دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن پھر انکار کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بولنا ان کا استحقاق ہے خاص طور پر جب ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔
محمد فاروق نے پورے اسمبلی سیشن کے دوران احتجاج کیا اور وزیر داخلہ سے جواب طلب کیا کہ جماعت اسلامی کے ارکان کی گرفتاری اور ان پر طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟
ان کا خیال ہے کہ حکومت جماعت اسلامی سے اس لیے خوفزدہ ہے کہ وہ کراچی میں ان کی 18 سالہ ناقص کارکردگی کو بے نقاب کر رہی ہے اور شہر کی موجودہ حالت کو اجاگر کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے حالیہ مارچ کا حوالہ دیا جس نے ان کے بقول حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے خلاف ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا۔
محمد فاروق کا کہنا ہے کہ یہ سب 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے ایک بڑے دھرنے کی تیاری کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے جس میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اور کراچی کے فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور استعمال کا مطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کے نوجوانوں کے لیے پانی، بجلی، گیس، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، ملازمتوں اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے لیے لڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج
محمد فاروق نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ بڑے پیمانے پر دھرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
انہوں نے گزشتہ 29 روزہ دھرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت اسلامی آئینی اور قانونی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرتی ہے اور بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔
محمد فاروق کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی کا احیاء ہو چکا ہے اور اس نے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مزید نشستیں جیتنے سے روکا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی کراچی میں ایک بڑی اسٹیک ہولڈر ہے جو سیاسی، تنظیمی اور ووٹوں کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، مذہبی اور سماجی بہبود پر کام کر رہی ہے اور لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہے اور کراچی کے نوجوانوں کی حمایت پر زور دیتی ہے۔
محمد فاروق کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی موجودگی نچلی سطح تک ہے جس کے پاس کارکنوں اور حامیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ ایک عوامی جماعت ہے اور اس کا مقصد سندھ میں حکومت بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی نے اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
محمد فاروق نے کہا کہ 14 فروری سے شروع ہونے والا دھرنا مطالبات کی منظوری تک ایک طویل مدتی عہد ہوگا جو ممکنہ طور پر ان کے پچھلے دھرنے کے دورانیے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جماعت اسلامی جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جماعت اسلامی کا کراچی میں دھرنا جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جماعت اسلامی کا کراچی میں دھرنا جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سندھ اسمبلی کے باہر کہ جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے جماعت اسلامی کا انہوں نے کہا کہ محمد فاروق نے پریس کانفرنس کراچی میں کر رہی ہے کراچی کے کا کہنا اور اس کے لیے ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔