Jasarat News:
2026-06-02@22:06:51 GMT

بنگلا دیشی انتخابات کا کڑا مرحلہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-03-6
بنگلا دیش اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں انقلاب کے بعد جمہوریت کی سمت کا حقیقی تعین ہونے جا رہا ہے۔ اگست 2024 کی عوامی بغاوت نے نہ صرف شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا تھا بلکہ ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عوامی توقعات کے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اب 12 فروری 2026 کے تیرہویں عام انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ سیاسی تبدیلی ایک مستحکم جمہوری نظام میں ڈھلتی ہے یا ملک دوبارہ شدید سیاسی تقسیم اور محاذ آرائی کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ عبوری حکومت کی قیادت ڈاکٹر محمد یونس کے ہاتھ میں ہے جو عالمی سطح پر معتبر شخصیت ہیں، مگر داخلی سیاست کی سخت حقیقتیں ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔ شیخ حسینہ کے دور میں بنگلا دیش نے معاشی ترقی کے باوجود سیاسی آزادیوں کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کیا۔ اپوزیشن کی گرفتاریوں، عدالتی تنازعات اور میڈیا پر دباؤ نے بالآخر نوجوانوں کی قیادت میں ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے پورے نظام کو بدل دیا۔ جب حسینہ واجد فرار ہو کر بھارت چلی گئیں تو ملک میں ایک سیاسی خلا پیدا ہوا جسے عبوری حکومت نے پْر کرنے کی کوشش کی۔ ابتدا میں امید تھی کہ ایک غیر جانبدار عبوری سیٹ اپ وسیع اصلاحات کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط کرے گا مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ اصلاحات اور انتخابات کا ٹکراؤ ناگزیر ہے۔

عبوری حکومت نے آئینی، عدالتی اور انتخابی اصلاحات کے لیے متعدد کمیشن قائم کیے، جنہوں نے وزیراعظم کی مدت کی حد، دو ایوانی پارلیمان، آزاد الیکشن کمیشن اور پولیس اصلاحات جیسے اہم نکات پیش کیے۔ ان تجاویز کا مقصد طاقت کے ارتکاز کو روکنا اور ادارہ جاتی توازن قائم کرنا تھا۔ مگر سیاسی جماعتوں نے ان اصلاحات کے وقت اور دائرہ کار پر اختلاف کیا۔ بی این پی نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر منتخب حکومت کو بنیادی آئینی تبدیلیوں کا اختیار نہیں ہونا چاہیے جبکہ جماعت ِ اسلامی اور طلبہ تحریک سے اُبھرنے والی قوتیں انتخابات سے پہلے اصلاحات کو مکمل کرنے پر زور دیتی رہیں۔ یہی کشمکش اس وقت بنگلا دیشی سیاست کی سب سے بڑی بحث ہے کیونکہ ہر جماعت اصلاحات کو اپنے سیاسی مفادات کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ سیاسی منظرنامے میں سب سے اہم تبدیلی عوامی لیگ کی غیر موجودگی ہے، جس نے طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے بی این پی اور جماعت ِ اسلامی دو بڑی قوتوں کے طور پر سامنے آئی ہیں اور آنے والے انتخابات میں ان کے درمیان سخت اور فیصلہ کن مقابلہ متوقع ہے۔ رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ بی این پی اب بھی ایک بڑی عوامی حمایت رکھتی ہے خاص طور پر ان حلقوں میں جہاں حسینہ حکومت کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا تھا۔ تاہم جماعت ِ اسلامی کی غیر معمولی واپسی نے انتخابی مقابلے کو دلچسپ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حسینہ دور کے جبر کے باوجود جماعت کی تنظیمی قوت اور نظریاتی وابستگی نے اسے دوبارہ متحرک ہونے کا موقع دیا جس سے سیاسی توازن مزید بدل گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت ِ اسلامی کا ابھار محض ایک سیاسی واپسی نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور تنظیمی استحکام کی علامت ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں سماجی انصاف، بدعنوانی کے خاتمے، نوجوانوں کے کردار اور معاشی اصلاحات پر زور دیا ہے جس نے شہری متوسط طبقے اور نوجوان ووٹروں کو متوجہ کیا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا جماعت اپنی نظریاتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے وسیع عوامی اتحاد قائم رکھ پائے گی یا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ طلبہ تحریک سے ابھرنے والی این سی پی نے اصلاحاتی سیاست اور نوجوانوں کی نمائندگی کے نام پر جماعت ِ اسلامی کے ساتھ عملی تعاون اور انتخابی مفاہمت کی راہ اپنائی ہے جس کے انتخابی نتائج پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ این سی پی اور جماعت ِ اسلامی کے درمیان اتحاد نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف یہ اتحاد نوجوانوں کی توانائی اور جماعت ِ اسلامی کی تنظیمی قوت کو یکجا کر کے ایک مضبوط انتخابی بلاک کے طور پر سامنے آیا ہے جو بی این پی جیسی آزمودہ پارٹی جو خود کو عوامی لیگ کے متبادل کے طور پر پیش کررہی تھی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

جماعت ِ اسلامی اور این سی پی چونکہ مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اُتری ہیں اس لیے ان کے اتحاد کو بی این پی کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھاجارہا ہے۔ تاہم بی این پی کی تاریخی جڑیں، وسیع تنظیمی ڈھانچہ اور قوم پرستانہ بیانیہ اسے اب بھی ایک مضبوط دعوے دار بناتے ہیں۔ اس کے باوجود قیادت کے مسائل، خاص طور پر خالدہ ضیا کی رحلت اور طارق رحمن کی طویل جلاوطنی کے اثرات، پارٹی کی سیاسی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے انتخابات کو ماضی کی حلیف دو بڑی سیاسی قوتوں بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان براہِ راست مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں این سی پی کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر بھی بنگلا دیش کی سیاسی تبدیلی اور 12 فروری کے انتخابات کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر عالمی شراکت دار اس عمل کو جمہوری استحکام کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر اصلاحات اور انتخابات کے درمیان توازن قائم ہو گیا تو بنگلا دیش عالمی سرمایہ کاری اور سیاسی تعاون کے لیے ایک زیادہ پرکشش ملک بن سکتا ہے تاہم اگر سیاسی جماعتیں اصلاحات کو محض اقتدار کی کشمکش کا ذریعہ بنائیں گی تو عالمی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔

ہمیں یہ حقیقت ماننے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ بنگلا دیش اس وقت ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت طے کرے گا۔ شیخ حسینہ کی اقتدار سے علٰیحدگی کے بعد سامنے آنے والے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل میں 12 فروری کے انتخابات کلیدی کردار ادا کریں گے جبکہ انتخابات میں کسی بھی وجہ سے تاخیر سیاسی بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح بی این پی اور جماعت ِ اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ اگر جمہوری حدود میں رہا تو یہ سیاسی نظام کو مضبوط کرے گا لیکن اگر یہ سیاسی اختلاف محاذ آرائی میں بدل گیا تو انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔ اس ضمن میں این سی پی جسے متوقع حکومت سازی میں بادشاہ گر کے کردار کا حامل قرار دیا جارہا ہے کا جماعت ِ اسلامی کے ساتھ اتحاد خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یاد رہے کہ این سی پی نے پہلے مرحلے میں بی این پی کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے کی کوشش کی تھی لیکن بی این پی اسے چار پانچ سیٹوں سے زیادہ نشستیں دینے کے لیے تیار نہیں تھی جس پر اس نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ حرف آخر یہ کہ بنگلا دیش کے عوام کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوریت چاہتے ہیں، ایک ایسی جمہوریت جو مضبوط اداروں، شفاف انتخابات اور سیاسی برداشت پر مبنی ہو، یا وہ سیاست جس میں اقتدار کی کشمکش ریاستی استحکام کو مسلسل نقصان پہنچاتی رہی ہے۔ در حقیقت 12 فروری کے انتخابات نہ صرف حکومت کا فیصلہ کریں گے بلکہ اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی امیدیں ایک پائیدار جمہوری نظام میں ڈھلتی ہیں یا محض ایک اور سیاسی تجربہ ثابت ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی اور جماعت بنگلا دیش اسلامی کے کے درمیان کے طور پر بی این پی کے ساتھ کریں گے رہا ہے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی