عالمی شفافیت کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ سالانہ بدعنوانی اشاریہ رپورٹ کے مطابق افغانستان بدستور دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان نے 100 میں سے 16 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 169 ویں نمبر پر رہا۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان نے 100 میں سے 16 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 169 ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024 میں افغانستان کا اسکور 17 تھا اور وہ 180 ممالک میں 165 ویں نمبر پر تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کی صورتحال وقت کے ساتھ مزید خراب ہوئی ہے۔

دنیا کے کم بدعنوان ممالک

رپورٹ کے مطابق ڈنمارک، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور ناروے دنیا کے کم بدعنوان ترین ممالک میں شامل ہیں۔

دنیا کے زیادہ بدعنوان ممالک

جنوبی سوڈان، صومالیہ، وینزویلا، یمن اور لیبیا کو دنیا کے زیادہ بدعنوان ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔

کم ترین بدعنوان ملک

بدعنوانی تاثر اشاریہ 2025 کے مطابق پہلا نمبر ڈنمارک کا ہے، جس نے 100 میں سے 89 نمبر حاصل کیے اور دنیا کا کم ترین بدعنوان ملک قرار پایا۔

پاکستان میں کرپشن میں کمی

پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136 ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024 میں پاکستان 180 ممالک میں 135 ویں نمبر پر تھا۔

یعنی اس سال پاکستان کی درجہ بندی میں معمولی تنزلی ہوئی ہے۔

عالمی اوسط میں کمی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد عالمی اوسط اسکور 42 پر آ گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف کارکردگی کمزور ہو رہی ہے۔

کمزور ریاستیں زیادہ متاثر

رپورٹ کے مطابق وہ ممالک جہاں شہری آزادی محدود ہو، عدالتی نظام کمزور ہو اور احتساب کا مؤثر نظام موجود نہ ہو، وہاں بدعنوانی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، افغانستان جیسے کمزور ریاستی ڈھانچے رکھنے والے ممالک اسی وجہ سے فہرست کے نچلے حصے میں موجود ہیں۔

ادارے کی سفارشات

عالمی ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ آزاد عدلیہ کو مضبوط بنایا جائے، نگرانی کے اداروں کو بااختیار کیا جائے، سیاسی مالی نظام کو شفاف بنایا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ بدعنوانی کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔

بدعنوانی کا پیمانہ کیا ہے؟

اشاریہ رپورٹ میں عوامی شعبے میں بدعنوانی کے تاثر کو صفر سے 100 کے پیمانے پر جانچا جاتا ہے، جہاں صفر سب سے زیادہ بدعنوانی اور 100 بدعنوانی سے پاک ہونے کی علامت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news افریقہ افغانستان اقوام متحدہ پاکستان ڈنمارک رپورٹ جاری صومالیہ کرپشن لسٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افریقہ افغانستان اقوام متحدہ پاکستان رپورٹ جاری صومالیہ نمبر حاصل کیے اور رپورٹ کے مطابق ویں نمبر پر ممالک میں دنیا کے گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق