چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ، ججز کیخلاف 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ، ججز کیخلاف 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس ہوا،سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہونے والے اجلاس میں اعلی عدلیہ کے سینئر ججز کی شرکت،اجلاس میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان ،سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منیب اختر ،جسٹس جمال مندوخیل ، وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر شریک ہوئے ۔
اعلامیہ کے مطابق 8شکایات کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو کر دی گئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جگہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس عتیق شاہ کو شامل کر لیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر 59 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا، 59میں سے 50شکایات کو نمٹا کر فائل کرنے کا حکم دیدیا گیا، 6شکایات کو مزید غور کے لیے موخر کر دیا گیا،3شکایات پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کرنے کی ہدایت جاری، سپریم جوڈیشل کونسل نے ڈرافٹ رولز کی حتمی منظوری موخر کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا، ڈرافٹ رولز پر حتمی فیصلہ اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرالیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے، سہیل آفریدی آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں،محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی اجلاس، اسپیکر نے کورم کی نشاندہی نظرانداز کردی،متعدد بل منظور پاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل چیف جسٹس
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔