راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ دنیا ایک عالمی طوفان کا سامنا کررہی ہے، جس میں ایک سپر پاور کا دور ختم ہورہا ہے، جغرافیائی سیاسی تنازعات بڑھ رہے ہیں اور توانائی اور مالیات ہتھیار بن رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستان امریکہ عبوری تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت پر ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا۔ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ دراصل آپ (مودی حکومت) نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ دنیا ایک عالمی طوفان کا سامنا کر رہی ہے، جس میں ایک سپر پاور کا دور ختم ہو رہا ہے، جغرافیائی سیاسی تنازعات بڑھ رہے ہیں، اور توانائی اور مالیات ہتھیار بن رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر ہندوستان پر پڑ رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جارہا ہے۔ مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے پوچھا کہ کیا حکومت کو اس پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیئے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی پر بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم کی آنکھوں میں خوف صاف نظر آرہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دو چیزیں ہیں، پہلی، ایپسٹین۔۔۔ 30 لاکھ فائلیں ابھی بھی بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نامعلوم دباؤ چل رہا ہے۔ ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریباً تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگیا ہے، جو چھ گنا اضافہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46 بلین ڈالر سے بڑھ کر 146 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوستان بدلے میں کوئی پختہ وعدہ کئے بغیر ہر سال درآمدات میں تقریباً 100 بلین ڈالر کا اضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار کھڑے ہیں، ہمارے ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگئے ہیں، جبکہ ان کے ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہوگئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے کہا کہ راہل گاندھی نے کہ الزام لگایا مودی حکومت انہوں نے حکومت نے رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی