بھارت کے غیر قانونی کشمیری شناخت کو نہیں مٹا سکتے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کشمیری شناخت کو مٹا نہیں سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے کا آپٹیکل فائبر منصوبہ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے عوام کو خوشخبری سنا دی
یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ایک بین الاقوامی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر پاکستان کے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے اور یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی اصولی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور آزاد جموں و کشمیر جمہوری طرزِ حکمرانی اور ترقی کی زندہ مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری اپنا مستقبل پاکستان سے جوڑنے کا فیصلہ اس کے قیام سے قبل ہی کرچکے تھے، وزیراعظم آزاد کشمیر
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام حقِ خودارادیت کے استعمال کے مکمل اہل ہیں اور امن طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور بامعنی مکالمے سے ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تشویش سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر بھارت پاکستان فیصل ممتاز راٹھور مقبوضہ کشمیر وزیراعظم آزاد کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان فیصل ممتاز راٹھور کشمیری عوام انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :