کون ہوگا صدر آزاد کشمیر؟ فیصلہ آج متوقع
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں نئے صدر کے امیدوار کا فیصلہ کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام طلب کرلیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ایوانِ صدر میں ہوگا، جس میں صدرِ ریاست کے امیدوار کے لیے مشاورت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، جس کے بعد اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، اور اس وقت آزاد کشمیر میں حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے، جسے قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے۔
عددی برتری اور آئینی پوزیشنصدر آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے ایوان میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، جو 27 ووٹ بنتے ہیں، اور یہ تعداد اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے۔
پیپلز پارٹی میں اندرونی اختلافاتذرائع کے مطابق صدرِ ریاست کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے اندر دھڑے بندی پائی جاتی ہے۔ بیرسٹر سلطان گروپ کا مؤقف ہے کہ صدارت ان کا حق بنتا ہے، اس لیے ان کے گروپ کے کسی رہنما کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے۔ اس حوالے سے چوہدری رشید کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ممکنہ صدارتی امیدواردوسری جانب اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، سردار محمد یعقوب خان اور سردار تنویر الیاس خان بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے صدارت کے امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود، مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق، سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر راجا فاروق حیدر سمیت بعض غیر سیاسی شخصیات بھی صدارتی عہدے کے لیے لابنگ میں مصروف ہیں۔
زرداری راٹھور ملاقاتذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے درمیان ملاقات میں نئے صدر کے نام پر مشاورت ہوئی، تاہم آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مزید گفت و شنید کی جائے گی۔
حالیہ سیاسی پیش رفتحال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ راجا فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم منتخب کرانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا، تاہم ن لیگ حکومت کا حصہ نہیں بنی۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اسے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنا صدر منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
مسلم لیگ (ن) کا مؤقفدوسری جانب مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں، اور ہم صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی نئے صدر کا انتخاب نہ کرے اور معاملہ آئندہ اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنا صدر منتخب کرانے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو آئندہ ہماری حکومت بننے کی صورت میں اسے ہٹا دیا جائے گا۔
آئینی رکاوٹ: الیکشن کمیشن کا بحرانیہ بھی واضح رہے کہ آئینی طور پر الیکشن کمیشن 30 روز کے اندر صدارتی الیکشن کرانے کا پابند ہے، تاہم کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر اور اپوزیشن لیڈر نے مشاورت کے بعد تین رکنی پینل وزیراعظم پاکستان کو ارسال کیا ہے، لیکن تاحال کسی نام کی منظوری نہیں دی گئی۔
ن لیگ کی حکمتِ عملی؟ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی یہ کوشش ہے کہ موجودہ اسمبلی نئے صدر کا انتخاب نہ کرے، اور اس مقصد کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر کی جا سکتی ہے، جو براہِ راست چیئرمین کشمیر کونسل (وزیراعظم پاکستان) کا اختیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت مسلم لیگ کے لیے
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :