پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس کل 11 فروری بروز بدھ شام ساڑھے سات بجے ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہو گا جس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
علاہ ازیں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی اور مرکزی قیادت کی شرکت متوقع ہے ، کشمیر اُمور کی انچارج فریال تالپور بھی اجلاس میں شریک ہوں گی۔
اجلاس میں صدرِ آزاد کشمیر کے انتخاب سے متعلق اہم مشاورت اجلاس کا ایجنڈا شامل ہے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر حتمی فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے جب کہ وہاں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب سیاسی صورتِ حال اور آئندہ جنرل الیکشن کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا جائے گا، اجلاس کے فیصلے آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر کی پیپلز پارٹی ا
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔