ڈی آئی خان:

خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں نے وانڈہ بڈھ پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے۔

پولیس نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ پنیالہ فہیم ممتاز شہید اور دیگر اہلکار شہید ہوگئے جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس نے بتایا کہ حملے میں ڈی ایس پی پہاڑپور حافظ محمد عدنان بھی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ پولیس پر حملے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے کیا اور حملے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی حافظ عدنان اور دیگر افسران پر حملہ انتہائی افسوس ناک ہے اور حملے میں ایس ایچ پنیالہ فہیم ممتاز اور دیگر اہلکاروں کی شہادت سے دل رنجیدہ ہے، ڈیرہ پولیس کے بہادر بیٹوں نے وطن اور عوام کے تحفظ میں شہادت قبول کی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے زخمی ڈی ایس پی اور دیگر اہلکاروں کو ہر ممکن علاج کی فراہمی کی ہدایات جاری کردیں اور کہا کہ ڈی ایس پی حافظ عدنان اور ساتھی زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ  دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں، شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے، دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات سے پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے تاہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمت عملی ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دہشت گردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، صوبے میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس ایچ او ڈی ایس پی پولیس پر اور دیگر کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور