ڈی آئی خان میں پولیس پر دہشتگردانہ حملہ، 4 اہلکار شہید اور 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے وانڈہ بڈھ میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے پولیس کی ایک پارٹی پر حملہ ہوا، جس میں ایس ایچ او فہیم ممتاز سمیت 4 اہلکار شہید اور ڈی ایس پی حافظ عدنان سمیت 2 زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی سخت مذمت کی اور شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:علما و مشائخ کونسل کی اسلام آباد خودکش حملے کی شدید مذمت، دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور
وانڈہ بڈھ میں دہشتگردوں نے پولیس آپریشن پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایس ایچ او فہیم ممتاز، کانسٹیبل توقیر، کانسٹیبل عرفان اور کانسٹیبل غلام ربانی شہید ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی حافظ عدنان اور ڈرائیور طارق خان زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شہداء و زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی ہائی کر دی گئی تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پولیس فرنٹ لائن پر بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ گورنر نے شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا پولیس دہشتگردوں کے نشانے پر، رواں برس 154 حملے
پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے ذمہ دار دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے اور صوبے بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ گورنر نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیس کی قربانیوں اور قربانی دینے والے اہلکاروں کی خدمات کا احترام کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس پر حملہ دہشتگردی ڈیرہ اسماعیل خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس پر حملہ دہشتگردی ڈیرہ اسماعیل خان
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔