غلام احمد بلور کے جانے سے پشاور یتیم ہوگیا، بلور ہاؤس کا سیاسی تشخص برقرار رکھوں گا، سابق گورنر غلام علی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سابق گورنر اور پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے اہم سیاسی مرکز بلور ہاؤس کے نئے مالک حاجی غلام علی کہتے ہیں کہ بزرگ سیاست دان غلام احمد بلور کے پشاور سے منتقل ہونے سے پورا شہر سیاسی طور پر یتیم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غلام بلور نے پارلیمانی سیاست اور پشاور کو خداحافظ کہہ دیا
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام علی نے کہا کہ بلور خاندان کے پشاور سے اسلام آباد منتقل ہونے پر انہیں دکھ ہوا اور یہ پشاور کا نقصان ہے۔
غلام علی نے بلور ہاؤس کی ملکیت، سیاسی معمولات، لوکل گورنمنٹ، گورنر ہاؤس اور سی ایم ہاؤس کے درمیان جاری کشیدگی اور دیگر سیاسی معاملات پر بات کی۔
’ایک روپے میں بلور ہاؤس لے لو‘وی نیوز سے بات چیت میں حاجی غلام علی نے بتایا کہ وہ بلور ہاؤس کی خریداری میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے تاہم انہیں معلوم تھا کہ غلام احمد بلور اپنا گھر فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انھیں بلور خاندان کی جانب سے پیغامات ملے جس پر انہوں نے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل غلام احمد بلور نے انہیں گھر دعوت دی اور مکان خریدنے کے لیے کہا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے انکار کیا جس پر غلام بلور نے واضح کیا کہ اگر ایک روپے میں بھی خریدتے ہو تو دینے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اگر غلام احمد بلور کی تنہائی کا خیال نہ ہوتا تو وہ کبھی بلور ہاؤس نہ خریدتے۔
غلام علی نے کہا کہ میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ بلور خاندان پشاور چھوڑ دے لیکن غلام احمد بلور کا خاندان پہلے ہی منتقل ہو چکا تھا اور وہ اکیلے رہ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کافی رابطوں کے بعد انہوں نے گھر آخرکار خرید لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی گھر خالی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ غلام احمد بلور خود خالی کر کے اسلام آباد منتقل ہوئے۔
’انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تو بلور ہاؤس میں رہ سکتے تھے، مجھے خوشی ہوتی‘۔
’بلور ہاؤس کا سیاسی تشخص برقرار رکھوں گا‘بلور ہاؤس کے نئے مالک غلام علی نے بتایا کہ گھر میں کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلور ہاؤس ایک تاریخی گھر ہے جو سیاست کا مرکز رہا ہے جہاں ملک کے بڑے بڑے سیاست دان آتے رہے جبکہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کا بھی مرکز رہا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور
انہوں نے واضح کیا کہ بلور ہاؤس کا سیاسی تشخص برقرار رکھا جائے گا اور وہاں آنے والوں کے سر پر بھی ہاتھ رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وہ سیاسی لوگوں کے لیے احترام رکھتے ہیں اور غلام احمد بلور کے پشاور چھوڑنے پر انھیں دکھ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلام بلور کا پشاور چھوڑنا پشاوریوں کا نقصان ہے اور پورا پشاور سیاسی طور پر یتیم ہو گیا ہے۔
’گورنر ریاست کا نہیں، پارٹی کا نمائندہ بن گیا ہے‘حاجی غلام علی نے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان بیان بازی اور دوری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر صوبے کا بڑا ہوتا ہے اور اسے صوبے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ گورنر کا نام لیے بغیر ان کی سیاسی بیان بازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کو ریاست کے نمائندے کے طور پر مثبت بیانات دینے چاہییں نہ کہ ایک پارٹی کے نمائندے بن کر۔
مزید پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ افسوس کہ آج گورنر ایک پارٹی کا نمائندہ بن کر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر کی بے جا بیان بازی کے باعث صوبے کی سرکاری جامعات کی چانسلرشپ بھی گورنر سے لے لی گئی جبکہ اسلام آباد میں پختونخوا ہاؤس بھی۔
غلام علی نے کہا کہ جب میں گورنر تھا تو سیاسی اختلافات کے باوجود صوبے اور وفاق کے درمیان پل کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں کئی بار وزیراعظم گورنر ہاؤس آئے اور صوبائی حکومت کو وفاق کے سامنے بٹھا کر مسائل پر بات کی۔
’پی ٹی آئی نے لوکل گورنمنٹ کو تباہ کر دیا‘غلام علی جنہوں نے سیاست کا آغاز کونسلر کی نشست سے کیا کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والی ثمر ہارون بلور کو رکن قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں جمہوریت ہوتی ہے تو بلدیاتی حکومت پر مارشل لا لگ جاتا ہے اور جب مارشل لا ہوتا ہے تو بلدیاتی حکومت جمہوری بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے کے باوجود خراب کارکردگی کے باعث بلدیاتی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔
’پی ٹی آئی الیکشن جیتی نہیں بلکہ اس کو حکومت دی گئی‘سابق گورنر غلام علی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تیسری بار مسلسل حکومت کے باوجود ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔
مزید پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی کو بڑا دھچکا، ثمر ہارون بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت، وزیراعظم سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوام کی پرواہ نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کی فکر ہے۔
غلام علی نے کہا کہ عمران خان پارٹی سربراہ ہیں جبکہ حکومت عوامی ہوتی ہے۔ اور عوام کو چھوڑ کر عمران خان کے لیے احتجاج اور مارچ کہاں کا انصاف ہے؟
مزید پڑھیے: بلور خاندان کی سیاست سے کنارہ کشی، غلام بلور نے پشاور کو خیرباد کیوں کہا؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ سے حکومت میں نہیں آئی بلکہ اس کو سزا کے طور پر خیبر پختونخوا کی حکومت دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلور خاندان پشاور پشاور بلور ہاؤس سابق گورنر خیبرپختونخوا غلام علی غلام احمد بلور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلور خاندان پشاور پشاور بلور ہاؤس سابق گورنر خیبرپختونخوا غلام علی غلام احمد بلور غلام علی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ غلام احمد بلور بلور خاندان نے بتایا کہ سابق گورنر غلام بلور بلور ہاؤس پی ٹی آئی کا سیاسی منتقل ہو بلور نے کہ بلور ہاؤس کے تھا کہ کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔