طلبہ وطالبات کا پارلیمنٹ ہاؤس کا مطالعاتی دورہ، تفصیلی بریفنگ دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-13
اسلام آباد (صباح نیوز) خصوصی افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے قائم فاؤنڈیشن میں زیر تعلیم طلبا وطالبات پر مشتمل 12 رکنی وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر طلباوطالبات کے وفد کا سینیٹ سیکرٹریٹ کے حکام نے خیرمقدم کیا۔ وفد نے سینیٹ میوزیم کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ، آئین کی تشکیل، اور قانون سازی کے عمل کے مختلف مراحل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ طلباوطالبات کے وفد نے گلی دستور کا دورہ بھی کیا۔ وفد نے بعد ازاں سینیٹ ہال کا دورہ کیا، جہاں انہیں پارلیمنٹ کے نظامِ کار، سینیٹ کے کردار، قانون سازی کے طریقہ کار، اور قائمہ کمیٹیوں کے کردار کے حوالے سے جامع بریفنگ فراہم کی گئی۔ طلبہ و طالبات نے پارلیمانی کارروائی اور جمہوری عمل میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس دورے کو نہایت معلوماتی اور مفید قرار دیتے ہوئے سینیٹ سیکرٹریٹ کے انتظامات کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفد نے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔