سینیٹ اجلاس، آج کتنے بل اور ترامیمی بلز منظور کیے گئے؟ تفصیل سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) نے پیکا ایکٹ، کرمنل قوانین، انسداد الیکٹرانک کرائمز اور فیملی کورٹ کے ترامیمی بلز منظور کرلیے۔
اجلاس میں ترامیمی بلز کے ساتھ شیری رحمان کا اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل بھی منظور کیا گیا ہے، جس کے مطابق کوئی دکاندار ایسے کتاب فروخت نہیں کرے گا، جس پر پلاسٹک کور ہو، خلاف ورزی پر پہلی مرتبہ 50 ہزار اور دہرانے پر 1 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹڑ شیری رحمان نے سینیٹ سیشن لائیواسٹریم نہ ہونے پر احتجاج ریکارڈ کرادیا۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت ان غیر ممالک کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا معاہدہ کرے، جن کی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پاکستان میں استعمال ہوتی ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر ثمینہ زہری کا کرمنل قوانین میں ترمیم کا بل بھی منظور کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ریپ متاثرہ کو میڈیکل نہ دینے پر 1 سال تک سزا اور جرمانہ ہو گا۔
بل میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی نجی یا سرکاری اسپتال ریپ کی متاثرہ کو فوری فرسٹ ایڈ فراہم نہیں کرتا تو اسے سزا دی جائے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاہے کہ میں ہر اس شخص پر انگلی اٹھاؤں گا جو دہشت گردی کا حمایتی رہا ہے۔
بل میں یہ بھی کہا گیا کہ ریپ کا متاثرہ سرکاری اسپتال میں آتا ہے تو فوری طور پر میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے، اگر ریپ متاثرہ شخص نجی اسپتال میں آتا ہے تو اسے 24 گھنٹے کے اندر اندر سرکاری اسپتال بھیجا جائے، جہاں سے میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ حاصل کیا جائے۔
ایوان بالا میں انسداد لیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کیا گیا، بچوں کی فحش فلموں پر سزا 7 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جائے، جرمانہ 50 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ کیا جائے گا۔
فیملی کورٹ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ عدالت شوہر کی پہلی پیشی پر خاتون یا بچے کی ماہابہ رقم فکس کرے گی، اگر تعین نہ ہو تو خرچہ میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا گیا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔