جیل میں کئی بار خودکشی کا سوچا مگر بیٹی اور بیوی کا خیال آنے پر رُک گیا، سابق پاکستانی کرکٹر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے کہا ہے کہ لندن کی جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا اور جیل میں کئی بار خودکشی کا سوچا مگر بیٹی اور بیوی کا خیال آنے پر رُک گیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں ناصر جمشید نے کہا کہ قید کے دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور کئی بار خودکشی کا سوچا تاہم اہلیہ نے جان بچائی۔ جیل میں اہلیہ بیٹی کی تصاویر بھیجتی تھیں جس سے جینے کا حوصلہ ملتا تھا، ان کا کہنا تھا کہ بیوی اور بیٹی کی خاطر جینے کا فیصلہ کیا۔
ناصر جمشید نے کہا کہ اپنی غلطیوں پر شدید ندامت ہے اور اس کی بھاری قیمت بھی چکا رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درست قانونی مشورہ ملتا تو ممکن ہے سزا کم ہو جاتی اور پابندی بھی ختم ہوچکی ہوتی۔
انہوں نے بتایا کہ برمنگھم کے ایک شیشہ کیفے میں ریکارڈ کی گئی گفتگو جب عدالت میں چلائی گئی تو انہوں نے جرم قبول کرلیا۔ ناصر جمشید کے مطابق ان کے وکیل نے انہیں اعتراف جرم نہ کرنے اور کرکٹ بورڈ سے رابطے ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا، جبکہ شاہد علی کی غلط رہنمائی نے بھی انہیں نقصان پہنچایا کیونکہ وہ صرف مالی فائدے میں دلچسپی رکھتا تھا۔
ناصر جمشید نے اعتراف کیا کہ یوسف انور کے ساتھ سازش میں شامل تھا اور انہی کے ذریعے یوسف انور کا رابطہ شرجیل خان اور خالد لطیف سے کروایا۔
سابق کرکٹر نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کی کہ ان کی پابندی کا ایک سال باقی رہ گیا ہے، اسے معاف کردیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان سے سنگین غلطی ہوئی اور نوجوان کھلاڑیوں کو نصیحت کی کہ وہ کبھی بدعنوانی کا راستہ اختیار نہ کریں۔
مزید پڑھیںانگلینڈ میں ٹیکسی ڈرائیور سابق پاکستانی کرکٹر کے بیٹے نے تاریخ رقم کردی
یاد رہے کہ مانچسٹر کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ان پر 10 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر بنگلادیش پریمیئر لیگ 2016 اور پاکستان سپر لیگ 2017 کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی کوششوں کا الزام تھا۔
بی پی ایل میں ایک بلے باز کو رقم کے عوض اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر رنز نہ بنانے پر آمادہ کیا گیا تھا۔ 2016 میں ناصر جمشید نے ایک خفیہ اہلکار کو بتایا تھا کہ بی پی ایل کے چھ کھلاڑی ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور فی میچ 30 ہزار پاؤنڈ کی رقم تقسیم کی جاتی رہی۔
ابتدائی طور پر پی ایس ایل میں رشوت کے الزامات کی تردید کے باوجود بعد ازاں انہوں نے عدالت میں اعتراف جرم کرلیا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر 10 سالہ پابندی عائد کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔