مودی نے ٹرمپ کے آگے ملک کو گروی رکھ دیا، ایپسٹین فائلز پر یوتھ کانگریس کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
یوتھ کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ ابھی بھی ایپسٹین فائلوں میں بہت سے انکشافات ہونے ہیں، جنہیں جاری نہیں کیا جا رہا ہے، پورا بھارت جاننا چاہتا ہے کہ ایپسٹین فائلوں میں کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق جنرل منوج نروانے کی کتاب "فور اسٹارز آف ڈیسٹینی" اور "ایپسٹین فائلز" کے اردگرد جاری تنازعہ کے درمیان انڈین یوتھ کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاج کیا۔ انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کی قیادت میں ملک بھر سے یوتھ کانگریس کارکن جنتر منتر پر جمع ہوئے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ناصر حسین، دیپیندر سنگھ ہڈا اور دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو کی موجودگی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کے صدر نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ایپسٹین فائلز کے خوف سے امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے پوری طرح ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے وزیراعظم کی کمزوری کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ نریندر مودی ایپسٹین فائلز سے خوفزدہ ہیں کیونکہ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی وہی اب اسے تباہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔
یوتھ کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ ابھی بھی ایپسٹین فائلوں میں بہت سے انکشافات ہونے ہیں، جنہیں جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔ پورا ملک جاننا چاہتا ہے کہ ایپسٹین فائلوں میں کیا ہے۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ وزیراعظم اس کی وجہ سے "بہت زیادہ دباؤ" میں ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک تجارتی معاہدہ جو چار ماہ سے پھنسا ہوا تھا، بغیر کسی تبدیلی کے، ایک شام اچانک دستخط کر دیا گیا، نریندر مودی شدید دباؤ میں ہیں۔ مودی نے سب کچھ ملک کے فیصلے، ملک کا وقار، ٹرمپ کے پاس گروی رکھ دیا ہے تاکہ ایپسٹین فائلس اسکینڈل سامنے نہ آئیں۔ نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے چِب نے کہا کہ نریندر مودی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے پوچھے گئے سوالات اور سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی کتاب میں لکھی گئی سچائی سے خوفزدہ ہیں۔ اسی وجہ سے وہ پارلیمنٹ سے بھاگے اور جھوٹ کا سہارا لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی کتاب میں سامنے آنے والے حقائق سے ایک تلخ حقیقت سامنے آئی ہے۔ جب چین ہندوستان پر دباؤ ڈال رہا تھا تو وزیر اعظم ہماری فوج کے ساتھ کھڑے نہیں تھے، اسی وجہ سے بحث روک دی گئی اور پارلیمنٹ کو خاموش کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر (ایل او پی) کو صدر کے خطاب پر بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس طرح اپوزیشن لیڈر کو بولنے سے روکا جا رہا ہے ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوتھ کانگریس کے انہوں نے کہا کہ نروانے کی کتاب ایپسٹین فائلز
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔