یوتھ کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ ابھی بھی ایپسٹین فائلوں میں بہت سے انکشافات ہونے ہیں، جنہیں جاری نہیں کیا جا رہا ہے، پورا بھارت جاننا چاہتا ہے کہ ایپسٹین فائلوں میں کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق جنرل منوج نروانے کی کتاب "فور اسٹارز آف ڈیسٹینی" اور "ایپسٹین فائلز" کے اردگرد جاری تنازعہ کے درمیان انڈین یوتھ کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاج کیا۔ انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کی قیادت میں ملک بھر سے یوتھ کانگریس کارکن جنتر منتر پر جمع ہوئے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ناصر حسین، دیپیندر سنگھ ہڈا اور دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو کی موجودگی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کے صدر نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ایپسٹین فائلز کے خوف سے امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے پوری طرح ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے وزیراعظم کی کمزوری کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ نریندر مودی ایپسٹین فائلز سے خوفزدہ ہیں کیونکہ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی وہی اب اسے تباہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

یوتھ کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ ابھی بھی ایپسٹین فائلوں میں بہت سے انکشافات ہونے ہیں، جنہیں جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔ پورا ملک جاننا چاہتا ہے کہ ایپسٹین فائلوں میں کیا ہے۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ وزیراعظم اس کی وجہ سے "بہت زیادہ دباؤ" میں ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک تجارتی معاہدہ جو چار ماہ سے پھنسا ہوا تھا، بغیر کسی تبدیلی کے، ایک شام اچانک دستخط کر دیا گیا، نریندر مودی شدید دباؤ میں ہیں۔ مودی نے سب کچھ ملک کے فیصلے، ملک کا وقار، ٹرمپ کے پاس گروی رکھ دیا ہے تاکہ ایپسٹین فائلس اسکینڈل سامنے نہ آئیں۔ نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے چِب نے کہا کہ نریندر مودی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے پوچھے گئے سوالات اور سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی کتاب میں لکھی گئی سچائی سے خوفزدہ ہیں۔ اسی وجہ سے وہ پارلیمنٹ سے بھاگے اور جھوٹ کا سہارا لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی کتاب میں سامنے آنے والے حقائق سے ایک تلخ حقیقت سامنے آئی ہے۔ جب چین ہندوستان پر دباؤ ڈال رہا تھا تو وزیر اعظم ہماری فوج کے ساتھ کھڑے نہیں تھے، اسی وجہ سے بحث روک دی گئی اور پارلیمنٹ کو خاموش کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر (ایل او پی) کو صدر کے خطاب پر بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس طرح اپوزیشن لیڈر کو بولنے سے روکا جا رہا ہے ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوتھ کانگریس کے انہوں نے کہا کہ نروانے کی کتاب ایپسٹین فائلز

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل