سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ کے والد برطرف؟ حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
انٹرنیٹ پر ایک مبینہ نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ملازم کو بغیر اطلاع غیر حاضری اور انکوائری کا جواب نہ دینے پر برطرف کردیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سخت سوالات کرنے والی ایک طالبہ کی ویڈیو گزشتہ دنوں وائرل ہوئی تھی۔ طالبہ کے سوال کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کررہا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس لڑکی کے والد کو سرکاری ملازمت سے نکال دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک مبینہ نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ملازم کو بغیر اطلاع غیر حاضری اور انکوائری کا جواب نہ دینے پر برطرف کردیا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 3 فروری کو وزیراعلیٰ اور طالبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد ایک خط سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا جس پر 4 فروری کی تاریخ درج تھی اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہوا ہے۔
اس دستاویز میں بشیر خان نامی کلرک کی برطرفی اور مراعات ختم کرنے کا ذکر تھا، جبکہ ایک صارف نے اسے اس تاثر کے ساتھ شیئر کیا کہ حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی سزا طالبہ کے والد کو دی گئی ہے۔ مذکورہ پوسٹ کو ہزاروں افراد دیکھ اور شیئر کرچکے ہیں۔ تاہم فیکٹ چیک کے دوران طالبہ فاطمہ خان نے واضح کیا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں اور وہ کبھی محکمہ تعلیم میں ملازم نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر اخوان خان خیبر پختونخوا کے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سے پہلے ہی ریٹائر ہوچکے ہیں۔
اسی طرح مبینہ نوٹیفکیشن پر درج چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے بھی اس خط کو من گھڑت قرار دیا، جبکہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نے بھی تصدیق کی کہ ایسا کوئی حکم نامہ ان کے دفتر سے جاری نہیں ہوا۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے پر طالبہ کے والد کو ملازمت سے برخاست کیا گیا، سراسر غلط ہے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن کبھی جاری نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا طالبہ کے کے والد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔