کینیڈا کی مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے فیصلے کی شدید مذمت، عالمی ردعمل میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کینیڈا نے مغربی کنارے پر قبضے سے متعلق اسرائیلی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
کینیڈین وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں بلکہ مستقبل کی قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مغربی کنارے سے متعلق اپنا فیصلہ فوری طور پر واپس لے اور آبادکاریوں میں توسیع بند کرے۔ کینیڈا نے اس امر پر زور دیا کہ یکطرفہ اقدامات مسئلے کے پرامن اور مذاکراتی حل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکا اور برطانیہ بھی اسرائیلی فیصلے پر تشویش اور مخالفت کا اظہار کر چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اس معاملے پر ردعمل شدت اختیار کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بھی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا کوئی حقِ خودمختاری نہیں اور یہ اقدامات مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔