Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:46:18 GMT

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ

کراچی: (نیوزڈیسک)پاکستان کے آٹو سیکٹر نے جنوری 2026 میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ جہاں گاڑیوں کی فروخت 43 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے مطابق شرح سود میں کمی، بینک فنانسنگ میں بہتری اور نئی ٹیکنالوجی کے تعارف نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2026 میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 23 ہزار 55 یونٹس رہی۔ جو ماہانہ بنیاد پر 74 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جنوری 2025 میں 17 ہزار 10 اور دسمبر 2025 میں 13 ہزار 280 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران مجموعی فروخت 43 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 11 ہزار 377 یونٹس تک پہنچ گئی۔ جو صارفین کے اعتماد میں بہتری اور آٹو فنانسنگ تک آسان رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بھی نمایاں رہی۔ جنوری میں اس شعبے کی فروخت سالانہ بنیاد پر 31 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 81 ہزار 790 یونٹس تک پہنچ گئی۔

بھاری گاڑیوں کے شعبے میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔ جہاں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 77 فیصد بڑھ کر ایک ہزار 101 یونٹس ہو گئی۔ تاہم ٹریکٹر کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جو جنوری 2026 میں 2 ہزار 505 یونٹس رہی، جو گزشتہ ماہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔

ماہرین کے مطابق معاشی استحکام اور مالیاتی پالیسی میں نرمی آٹو انڈسٹری کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گاڑیوں کی فروخت کے مطابق بنیاد پر

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا