بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافہ، گھریلو صارفین پر 132 ارب روپے سالانہ اضافی بوجھ کا خدشہ، سینیٹ میں ہنگامہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے گھریلو بجلی صارفین پر نئے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کرنے اور فی یونٹ نرخوں میں کمی کی تجویز پیش کردی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین سے سالانہ 132 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے جبکہ 101 ارب روپے کی سبسڈی صنعتی شعبے کو منتقل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کے گھریلوصارفین پر 1ہزار روپے تک فکسڈ چارجز عائد
یہ تجاویز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ٹیرف کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کی تبدیلی کے سلسلے میں سماعت کے دوران پیش کی گئیں۔
پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجزمجوزہ منصوبے کے تحت پہلی بار پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے۔ اس وقت تک صرف 300 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین فکسڈ چارجز ادا کرتے تھے۔
پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخ100 یونٹس تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 200 روپے ماہانہ جبکہ 200 یونٹس تک استعمال کرنے والوں سے 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارج وصول کرنے کی تجویز ہے۔ ان 2 سلیبز میں سبسڈی 51 ارب روپے کم ہوکر مجموعی سبسڈی 423 ارب روپے رہ جائے گی۔
نان پروٹیکٹڈ صارفین پر بوجھنان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹس تک 275 روپے، 200 یونٹس تک 300 روپے اور 300 یونٹس تک 350 روپے ماہانہ فکسڈ چارج مقرر کرنے کی تجویز ہے، حکومت نے ان سلیبز سے مجموعی طور پر 50 ارب روپے کی سبسڈی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا کا گھریلو صارفین پر بوجھ، فکسڈ گیس چارجز میں 50 فیصد تک اضافہ301 سے 400 یونٹس استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز 200 سے بڑھا کر 400 روپے، 401 سے 500 یونٹس والوں کے 400 سے بڑھا کر 500 روپے جبکہ 600 یونٹس استعمال کرنے والوں کے 600 سے بڑھا کر 675 روپے کرنے کی تجویز ہے۔
جزوی ریلیف700 یونٹس تک استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں 125 روپے کمی کر کے 675 روپے جبکہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی کر کے 675 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فی یونٹ نرخوں میں کمیحکومت نے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں بھی کمی تجویز کی ہے۔ 400 یونٹس استعمال کرنے والوں کو 1.
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ختم، کیا سولر صارفین کے لیے بلنگ مہنگی ہو جائے گی؟
700 یونٹس والوں کو 0.91 روپے اور 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کو 0.49 روپے فی یونٹ کمی دی جائے گی۔
صنعتی شعبے کو سبسڈی کی منتقلیپاور ڈویژن کے مطابق فکسڈ چارجز سے حاصل ہونے والے 101 ارب روپے صنعتی شعبے کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوں گے تاکہ معیشت کی بحالی میں مدد مل سکے۔
نیپرا کا فیصلہ جلد متوقعنیپرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ سنانے کا عندیہ دیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر ہنگامہسینیٹ اجلاس کے دوران نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر شدید تنقید کی گئی، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد مسترد کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ معطل، نیپرا کا پاور کمپنیوں کو انتباہ
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر سید علی ظفر نے فیصلہ عوام سے بدترین ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شمسی توانائی پر سرمایہ کاری کرنے والوں سے کیا گیا وعدہ توڑ دیا ہے۔
حکومتی مؤقفوفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا نے آئین اور قانون کے مطابق ضوابط میں تبدیلی کی ہے اور موجودہ نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی کسی شق کو واپس نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق ملک میں 30 ملین سے زائد بجلی صارفین ہیں جن میں سے 4لاکھ 66 ہزار 506 صارفین نیٹ میٹرنگ کے تحت 7 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کررہے ہیں۔
عام صارفین کا تحفظوزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اگر نیٹ میٹرنگ موجودہ شرح پر جاری رہتی تو باقی 30.04 ملین صارفین کو 200 ارب روپے سے بڑھتا ہوا 550 ارب روپے تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news الیکٹرک بل بجلی پاکستان پروٹیکٹڈ صارفین فکسڈ چارجز نان پروٹیکٹڈ صارفین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک بل بجلی پاکستان پروٹیکٹڈ صارفین فکسڈ چارجز نان پروٹیکٹڈ صارفین استعمال کرنے والوں کے نان پروٹیکٹڈ صارفین گھریلو صارفین کرنے کی تجویز کے فکسڈ چارجز صارفین کے لیے یہ بھی پڑھیں روپے فی یونٹ یونٹس والوں نیٹ میٹرنگ صارفین پر چارجز میں یونٹس تک حکومت نے ارب روپے والوں کو جائے گی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔