سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کا اجلاس کالعدم قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کا اجلاس کالعدم قرار دینے کی سفارش کر دی۔
سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس چیئر پرسن بشری انجم بٹ کی صدارت میں ہوا ،جس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کی وائس چانسلر سے متعلق معاملات تفصیل سے زیر غور آئے۔
اجلاس کے دوران عبوری وائس چانسلر طیبہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچیں تاہم چیئرپرسن کمیٹی نے واضح کیا کہ انہیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور ان کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔
چیئرپرسن نے کہا انہوں نے کہا کہ میڈم طیبہ پچیس سال سے وی سی کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے، اس کے باوجود وزیر تعلیم نے انہیں عبوری وائس چانسلر تعینات کر دیا۔
چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے پاس وائس چانسلر کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق وی سی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور ان کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
چیئرپرسن نے مزید کہا کہ دو کروڑ روپے سے زائد کے انکریمنٹس دے کر انہیں پروفیسر بنایا گیا، وزارت نے وی سی کو نوازا اور پارلیمان کی تضحیک کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر کمیٹی کو عزت نہیں دے رہا تو سیکریٹری تعلیم بھی ایسا ہی کرے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تک وی سی عہدے سے نہیں ہٹتیں، ان کے خلاف شفاف انکوائری کیسے ممکن ہوگی۔ چیئرپرسن کے مطابق اجلاس میں جس جس نے وی سی کے خلاف بات کی، ان کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے۔
بشریٰ انجم بٹ نے بتایا کہ ایوان صدر کی جانب سے انہیں آگاہ کیا گیا کہ عبوری وی سی کی تعیناتی کے لیے ان سے منظوری نہیں لی گئی اور وزیر تعلیم نے یہ ایجنڈا ایوان صدر کو پیش نہیں کیا تھا۔
اس موقع پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ اگر ایوان صدر نے منظوری نہیں دی تو تعیناتی نہیں ہو سکتی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کی سینیٹ کا اجلاس کالعدم قرار دیا جائے۔
دوسری جانب سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ کراچی میں پرسٹن یونیورسٹی تسلیم شدہ نہیں ہے اور جب وہاں کے طلبہ بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کی ڈگری کو قبول نہیں کیا جاتا۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ قائمہ کمیٹی نے ملک بھر کی جامعات کے دوروں کا فیصلہ بھی کیا تاکہ تعلیمی معیار اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائس چانسلر ان کے خلاف کمیٹی نے کا اجلاس کہا کہ نے کہا اور ان
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ