سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران دلچسپ صورتحال، ارکان ہنسی نہ روک سکے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
سینیٹ قائمہ کمیٹی فوڈ سیکیورٹی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی، ارکان ہنسی نہ روک سکے۔
سید مسرور احسن کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی فوڈ سیکیورٹی اجلاس میں ایجنڈے کے دوران کمیونٹی ایکشن پلان فار مینجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم لائیوز اینڈ لائیولی ہڈ پر بحث ہوئی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی CAMELL کی بجائے Camel یعنی اونٹ سمجھ کر بحث کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں اونٹوں کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے کیا کام ہو رہا ہے؟ آپ وزارت کو سنجیدہ نہیں لے رہے اس لیے آدھی تفصیلات کے ساتھ آجاتے ہیں۔
وزیر مملکت فوڈ سیکیورٹی ملک رشید نے کہا کہ اونٹوں کی افزائش پر کام ہورہا ہے، اگلے اجلاس میں ساری تفصیلات دیں گے۔
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ڈی جی کیا تفصیلات بتائیں گے ان کو تو کیمل کی اسپیلنگ بھی صحیح سے نہیں آتی۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی آر سی) کے ممبر نے کہا کہ سر یہ CAMELL ہے Camel یعنی اونٹ نہیں ہے، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ کیمل تو ایک ہی ہوتا ہے آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟
ممبر پی اے آر سی نے کہا کہ سر یہ کمیونٹی ایکشن پلان کے حوالے سے پروگرام کا مخفف ہے، صورتحال واضح ہونے کے بعد سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان ہنسی نہ روک سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔