موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہیں ہوگی، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزير برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ایک ماہ تک نیٹ میٹرنگ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ نیٹ بلنگ پالیسی کا اثر صرف نئے سولر صارفین پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اتحادی بھی سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کی مخالفت کررہے ہيں۔ خود ان کی اہلیہ بھی اس پالیسی کے خلاف ہيں۔
خیال رہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا فوری نوٹس لے لیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاور ڈویژن نیپرا کو سولر صارفین کے کنٹریکٹ کے تحفظ سے متعلق نظرِ ثانی اپیل دائر کرے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ اپیل دائر کریں تاکہ موجودہ کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے، سولر والے 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ بجلی صارفین پر نہ پڑے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ پاور ڈویژن اس سے متعلق جامع لائحہ عمل تشکیل دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سولر صارفین
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔