بنگلہ دیش: بی این پی کی بھارت سے متعلق دوہری پالیسی پر سوالات
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) جس کی قیادت طارق رحمان کر رہے ہیں، اس وقت بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں غیر واضح مؤقف رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی ایک طرف بہتر تعلقات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف سخت مؤقف بھی اپنا رہی ہے۔
انتخابی منشور میں 2 متضاد اشارےگزشتہ ہفتے جاری ہونے والے بی این پی کے انتخابی منشور میں کہا گیا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر مشترکہ ترقی کی جائے گی۔ تاہم اسی منشور میں بھارت پر سرحدی ہلاکتوں اور مبینہ دراندازی کا الزام بھی عائد کیا گیا اور کہا گیا کہ ان معاملات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کا ’محفوظ اور انسان دوست بنگلہ دیش‘ کے لیے 26 نکاتی انتخابی منشور جاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ بی این پی دوستی کا پیغام دے رہی ہے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شیخ حسینہ سے اختلافبی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کو بدعنوان اور سخت گیر قرار دیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بھارت جانے کے بعد ہی طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے۔
گزشتہ سال ایک خصوصی عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ یہ فیصلہ ان مظاہروں کے پس منظر میں آیا تھا جنہیں ’جولائی بغاوت‘ کہا جاتا ہے اور جن کے نتیجے میں 5 اگست 2024 کو ان کی حکومت ختم ہوئی۔
یونس فیکٹر اور ریفرنڈمنگراں حکومت کے سربراہ محمد یونس نے 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم میں اصلاحاتی پیکیج کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ’ہاں‘ کا ووٹ جیت گیا تو ملک کا مستقبل زیادہ مثبت انداز میں تشکیل پائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور بی این پی کے حامیوں میں جھڑپیں، 50 سے زیادہ افراد زخمی
تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ آئین میں ریفرنڈم کی واضح گنجائش موجود نہیں، اس لیے اس کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
طارق رحمان اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد بی این پی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ جماعتِ اسلامی، جو ماضی میں بی این پی کی اہم اتحادی رہی، اب اس کی بڑی حریف بن چکی ہے۔
مجموعی طور پر بی این پی ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرے گی یا سخت مؤقف اپنائے گی۔ آنے والے انتخابات اور ریفرنڈم کے نتائج اس سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت حسینہ واجد طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت حسینہ واجد بی این پی کے بنگلہ دیش رہی ہے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم