1100پاکستانی طلبہ افغانستان سے وطن واپس آ چکے،طارق فضل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-1-5
اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے افغانستان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کے حوالے سے توجہ دلا نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک1100پاکستانی طلبہ وطن واپس آ چکے ہیں جبکہ947طلبہ تاحال افغانستان میں موجود ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد اکتوبر2025سے بند ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس کورم کی نشاندہی پر تعطل کے بعد مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا، جس کے بعد رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے سرحدی بندش کے باعث افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کیا، جس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد اکتوبر 2025 سے بند ہے۔طارق فضل چودھری نے بتایا کہ اب تک 1100 پاکستانی طلبہ وطن واپس آ چکے ہیں جبکہ 947طلبہ تاحال افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد پہلے زمینی راستے سے آمد و رفت کرتی تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث تجارتی اور زمینی روٹس بند ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ فضائی راستہ بدستور کھلا ہے اور حکومت طلبہ کی واپسی کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طارق فضل چودھری افغانستان میں قومی اسمبلی
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،