قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی کم عمری میں شادی کے بل کی مخالفت، قومی اسمبلی سے منظور نہ کرنے کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-20
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بچوں کی کم عمری میں شادی سے متعلق بل کی مخالفت کردی۔ تفصیلات کے مطابق قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے ایوان سے منظور ہونے والے چائلڈ میرج سے متعلق کی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو منظور نہ کرنے کی سفارش کردی۔ قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی کی بل سے متعلق کمیٹی رپورٹ پیش کردی گئی۔ جس میں بتایا گیا کہ بل رکن اسمبلی سحر کامران نے پیش کیا تھا۔ واضح رہے کہ اس بل پر مذہبی جماعتوں نے شدید مخالفت کی جبکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ میں خود 16 سال کے بچوں کی شادیاں کرواؤں گا اور دیکھتا ہوں کون کارروائی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔