قومی اسمبلی ،، قائمہ کمیٹی مواصلات کا اجلاس ،، عبدالعلیم خان غیر حاضر،، ارکان سراپا احتجاج ،، تفصیلات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
قومی اسمبلی ،، قائمہ کمیٹی مواصلات کا اجلاس ،، عبدالعلیم خان غیر حاضر،، ارکان سراپا احتجاج ،، تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )قومی اسمبلی کی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس ،اجلاس کی صدارت کمیٹی چیئرمین اعجاز جکھرانی نے کی ،وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی عدم شرکت پر اراکین کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ،ممبر کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کمیٹی ممبران وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا انتظار کر رہے ہیں، اگر میں چیئرمین صاحب آپ کی جگہ ہوتا ایسے انتظار نہیں کرتا، یہ کمیٹی کے ساتھ مذاق ہے،میں احتجاج ریکارڈ کرا کر جا رہا ہوں۔وزیر کے عدم شرکت پر اجلاس ملتوی کر دیا جائے۔ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی عدم موجودگی پر احتجاجا اجلاس ملتوی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ نے نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا اجرا کردیا سپریم کورٹ نے نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا اجرا کردیا نوازشریف سے برٹش ہائی کمشنر کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو انٹرنیشل آرمی ٹیم سپرٹ مقابلہ کھاریاں میں اختتام پذیر،فیلڈ مارشل کی شرکت امریکی صدر ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کردی شیخ حسینہ کے بعد بنگلادیشی نوجوانوں میں بھارت کا اثر ختم ہونے لگا، بی بی سی کا بڑا انکشاف نوازشریف سے برٹش ہائی کمشنر کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان سب نیوز
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔