امریکا نے اپنے جہازوں کو ایرانی پانیوں سے دور رہنے کی وارننگ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-23
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایرانی علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ہدایات امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کی گئیں۔ امریکی حکام کے مطابق نئی ایڈوائزری میں جہازوں کے کپتانوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔ تاہم اگر کسی صورت ایرانی فورسز جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملہ مزاحمت نہ کرے، کیونکہ مزاحمت نہ کرنا رضامندی تصور نہیں ہوگا۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ رکھیں، بشرطیکہ نیویگیشن کی حفاظت متاثر نہ ہو۔ مشرق کی جانب سفر کے دوران جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور مکمل ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے جنگ کے خدشات بھی پیدا ہو گئے تھے۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کا اہم ترین تیل گزرگاہی راستہ قرار دیا جاتا ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ ماضی میں ایران، عراق جنگ، خلیج عمان میں جہازوں پر حملے اور حالیہ برسوں میں خطے کی کشیدگی نے عالمی شپنگ کو متاثر کیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق حال ہی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکا نے ایران کو غیر محفوظ رویے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔