قومی وحدت کیلئے ملک میں فوری طور پر انتخابات کیے جائیں، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے مابین ورکنگ ریلیشن قائم ہونا چاہیے، اس سے حکومت اور عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں، کوئی صوبہ وفاق کی مدد کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی وحدت اور اطمینان کے لیے ملک میں فوری انتخابات کیے جائیں۔ چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے مابین ورکنگ ریلیشن قائم ہونا چاہیے، اس سے حکومت اور عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں، کوئی صوبہ وفاق کی مدد کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات 3 ماہ قبل ہونی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پوری دنیا میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے، دنیا غیر مستحکم ہوگی تو امریکا کی بادشاہت قائم رہے گی اور امریکا کی خواہش ہے کہ ایران اور افغانستان غیر مستحکم رہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کنٹینر میں مجھے تیل نظر نہیں آ رہا ہے۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ قومی وحدت اور اطمینان کے لیے ملک میں فوری طور پر انتخابات کیے جائیں، الیکشن کے نتائج بدلنا اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط چیزوں کے خلاف اکثر خطرناک ردعمل آتا ہے، ہمیں احتیاط کے ساتھ اپنی حد میں رہنا ہوگا، دھاندلی کے نتیجے میں بننے والے حکومتیں صرف دعوے کر سکتی ہیں کام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت امن و امان لا سکتی ہے نہ ہی معاشی استحکام، پارلیمنٹ پر عوام کو اعتماد نہیں رہا، ہماری حکومت بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہے، ایف اے ٹی ایف اور عالمی مالیاتی اداروں نے ہمیں یرغمال کیا ہے۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پاکستان کی تقسیم کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، بلوچستان اور پختونخوا کے عوام کے حقوق پر بات ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے عوام کے مسائل حل نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔