میکسیکن کارٹل ڈرونز کی دراندازی، ٹیکساس کا ایل پاسو ایئرپورٹ عارضی طور پر بند
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی ریاست ٹیکساس کے ایل پاسو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گرد فضائی حدود کو میکسیکن کارٹل کے ڈرونز کی دراندازی کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا تاہم چند گھنٹوں بعد پابندی اٹھا لی گئی اور پروازیں بحال کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بدھ کی صبح سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایل پاسو کے اوپر عائد عارضی فضائی پابندی ختم کر دی گئی ہے کیونکہ کمرشل ایوی ایشن کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ادارے کے مطابق تمام پروازیں معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہیں۔
امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ایف اے اے اور محکمہ دفاع نے کارٹل ڈرون دراندازی کے معاملے پر فوری کارروائی کی۔
ان کے مطابق خطرے کو ختم کر دیا گیا ہے اور علاقے میں کمرشل سفر کے لیے کوئی خطرہ موجود نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ڈرون شامل تھے یا انہیں کس طرح ناکارہ بنایا گیا۔
ابتدائی طور پر ایف اے اے نے خصوصی سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر 10 روزہ بندش کا اعلان کیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر پروازوں کی معطلی متوقع تھی۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے انسٹاگرام پوسٹ میں کہا تھا کہ منگل کی رات سے 20 فروری تک تمام کمرشل، کارگو اور جنرل ایوی ایشن پروازیں معطل رہیں گی اور مسافروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تازہ معلومات کے لیے اپنی ایئرلائن سے رابطہ کریں۔
مزید پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو خفیہ ڈیڈ لائن دینے کا دعویٰ، امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا
ایل پاسو تقریباً 7 لاکھ آبادی والا سرحدی شہر ہے جو میکسیکو کے شہر سیوداد خواریز کے ساتھ مل کر سرحد پار تجارت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ عارضی پابندی میکسیکو کی فضائی حدود پر لاگو نہیں تھی۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس ویرونیکا ایسکوبار، جن کے حلقے میں ایل پاسو شامل ہے، نے بدھ کی صبح ایف اے اے سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی پیشگی اطلاع نہ تو ان کے دفتر کو دی گئی اور نہ ہی شہر یا ایئرپورٹ حکام کو ملی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 روزہ بندش کا فیصلہ غیر معمولی تھا اور اس سے مقامی برادری میں شدید تشویش پیدا ہوئی جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق علاقے کو فوری کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
ایل پاسو ایئرپورٹ خود کو مغربی ٹیکساس، جنوبی نیو میکسیکو اور شمالی میکسیکو کا گیٹ وے قرار دیتا ہے۔ یہاں ساؤتھ ویسٹ، یونائیٹڈ، امریکن اور ڈیلٹا سمیت کئی ایئرلائنز پروازیں چلاتی ہیں۔
اسی نوعیت کی خصوصی سیکیورٹی پابندی نیو میکسیکو کے علاقے سانتا تیریسا کے اوپر بھی عائد کی گئی جو ایل پاسو ایئرپورٹ سے تقریباً 24 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے بیان میں کہا کہ ایف اے اے کی ہدایت پر ایل پاسو سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ متاثرہ مسافروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
ایئرلائن نے کہا کہ ہمارے صارفین اور عملے کی حفاظت ساؤتھ ویسٹ کی اولین ترجیح ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ایئرپورٹ کی عارضی بندش ٹیکساس کا ایل پاسو ایئرپورٹ میکسیکن کارٹل ڈرونز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ایئرپورٹ کی عارضی بندش میکسیکن کارٹل ڈرونز ایل پاسو ایئرپورٹ ایف اے اے کے مطابق میں کہا تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔