بنگلہ دیش میں آج انتخابات، حسینہ واجد حکومت گرائے جانے کے بعد سے الیکشن تک کا غیر معمولی سفر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
5 اگست 2024 سابق وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کا حکومت میں آخری دن تھا جب پُرتشدد مظاہروں کے بعد حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا، اور ایک عبوری نظام نے اس کی جگہ لی جس کی سربراہی گرامین بینک چھوٹے قرضوں سے شہرت پانے والے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے حصے میں آئی۔ حسینہ واجد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئیں جبکہ بنگلہ دیش میں عدالتی ٹرائل کے ذریعے اُنہیں سزائے موت دی گئی۔
سب سے مُشکل سوال یہ تھا کہ ملک میں عالمی طور پر قابلِ قبول آئینی اور سیاسی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات کب اور کیسے کرائے جائیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
آج بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہیں، ملک بھر سے لوگ بسوں اور ٹرینوں پر سوار کر اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ ڈالنے پہنچ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بُنیادی طور پر 3 سیاسی جماعتیں، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعت اِسلامی مدمقابل ہیں۔
جماعتِ اِسلامی بنگلہ دیش نے حسینہ واجد کے دور میں ایک مُشکل وقت گزارا ہے، جب 2010 میں بننے والے ٹربیونلز کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو سزائیں دی گئیں۔
بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک غیر معمولی موڑ پر منعقد ہو رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخابی معرکہ ہے جس نے پورے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
انتخابی فضا میں روایتی طاقت کے مراکز کمزور ہوئے ہیں جبکہ نئی جماعتیں اور نئے بیانیے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس بار مقابلہ محض اقتدار کا نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی ڈھانچے، جمہوری سمت اور سماجی ترجیحات کے تعین کا بھی ہے۔
اہم سیاسی جماعتیں اور مقابلے کی نوعیتاس انتخاب میں سب سے نمایاں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے جو خود کو تبدیلی اور گورننس اصلاحات کی علامت کے طور پر پیش کررہی ہے۔ اس کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی مذہبی و سماجی اقدار پر مبنی نظام کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں۔
تیسری قابلِ ذکر قوت نیشنل سٹیزن پارٹی ہے، جو نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے ابھری ایک اصلاح پسند جماعت سمجھی جا رہی ہے۔
سابق حکمران جماعت عوامی لیگ اس انتخابی دوڑ میں مؤثر طور پر موجود نہیں، جس سے سیاسی مقابلہ ایک نئے توازن کی طرف مڑ گیا ہے۔
بی این پی کا منشور: معیشت، ماحولیات اور حکمرانیبی این پی کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور شفاف حکمرانی ہے۔ پارٹی نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا وعدہ کر رہی ہے۔
اس کے منشور میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ شامل ہے۔ بی این پی بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی نظام کی مضبوطی اور ریاستی اداروں میں شفافیت کے قیام کو بھی بنیادی اہداف کے طور پر پیش کررہی ہے۔
جماعتِ اسلامی کا بیانیہ: سماجی نظم اور اخلاقی ریاستجماعتِ اسلامی اپنی مہم میں ایک ’محفوظ اور اخلاقی بنگلہ دیش‘ کا تصور پیش کررہی ہے۔ اس کا زور معاشرتی اقدار، قانون کی عملداری اور کرپشن کے خاتمے پر ہے۔ پارٹی سماجی انصاف، کم آمدنی والے طبقات کے تحفظ اور فلاحی پروگراموں کی توسیع کی بات کرتی ہے۔
اس کے بیانیے میں مذہبی شناخت اور روایتی سماجی ڈھانچے کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس کی بعض پالیسیوں سے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP): اصلاحات اور نوجوانوں کی آوازنیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نسبتاً نئی جماعت ہے جو 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد نمایاں ہوئی۔ اس کا منشور جمہوری اصلاحات، آئینی توازن، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کے گرد گھومتا ہے۔
پارٹی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع اصلاحات، سب کے لیے صحت کی سہولیات اور جدید تعلیمی نظام کے قیام کی بات کرتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ این سی پی خاص طور پر شہری نوجوان ووٹرز میں مقبولیت حاصل کررہی ہے جو روایتی سیاست سے ہٹ کر شفاف اور جوابدہ نظام چاہتے ہیں۔
انتخابی نعرے اور عوامی ترجیحاتمجموعی طور پر انتخابی مہم میں جو موضوعات نمایاں ہیں ان میں روزگار، انصاف، شفاف حکمرانی، تعلیم، صحت اور شہری آزادی شامل ہیں۔ نوجوان ووٹرز جمہوری حقوق اور معاشی مواقع کے خواہاں ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں معاشی استحکام اور سماجی تحفظ اہم مطالبات ہیں۔
خواتین اور اقلیتی حقوق بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخاب محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی سمت کے تعین کا بھی ذریعہ ہے۔
حسینہ واجد کے بعد کا سیاسی ماحولشیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوا ہے جس نے نئی قوتوں کو ابھرنے کا موقع دیا۔ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری، آزاد انتخابی عمل اور جمہوری بحالی کی امیدیں اس انتخاب سے وابستہ ہیں۔ تاہم سیاسی تقسیم گہری ہے اور مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے اور جمہوری روایات کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ پورا انتخابی منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئے سیاسی دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں عوام کی ترجیحات، نوجوانوں کی شرکت اور گورننس کے معیار آئندہ برسوں کی سمت متعین کریں گے۔
حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہونا اور عوامی احتجاج5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں ایک طلبہ اور عوامی احتجاج کے دوران وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دیا اور ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔
یہ احتجاج ابتدا میں صرف سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کی اصلاح کے لیے شروع ہوا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گیا جس نے 15 سالہ اقتدار ختم کردیا۔ احتجاج شدت پکڑ گیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اور بالآخر حسینہ واجد کو مستعفی ہونا پڑا۔
عبوری حکومت کا قیام اور آئینی خلاحسینہ واجد کے استعفیٰ کے بعد ملک میں آئینی خلا پیدا ہوا کیونکہ بنگلہ دیش کے موجودہ آئین میں براہِ راست نگران حکومت کے قیام کا واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے سنبھالی۔ عبوری حکومت نے امید ظاہر کی کہ وہ ملک میں جمہوری بحالی اور شفاف انتخابات کا عمل مکمل کرے گی، اور اسی تناظر میں انتخابی تاریخوں اور اصلاحات پر مباحثے شروع ہوئے۔
سیاسی عدم استحکام اور اجتماعی کشمکشاس عبوری دور میں سیاسی فضا انتہائی کشیدہ رہی۔ بنگلہ دیش بھر میں سیکیورٹی خدشات، احتجاج، اور سیاسی تناؤ برقرار رہے۔ سابق حکمران پارٹی عوامی لیگ پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے تحت اس پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہو گئی اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے پائی۔
اس پر شیخ حسینہ اور ان کے حامیوں نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا، حتیٰ کہ بائیکاٹ اور عدم استحکام کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
انتخابی تاریخوں کا اعلان اور تیاریعبوری حکومت کی قیادت نے عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے واضح کیاکہ انتخابات رمضان سے پہلے، یعنی فروری 2026 میں ہوں گے، تاکہ آئینی تقاضے اور اصلاحاتی عمل مکمل کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن نے بھی 12 فروری 2026 کو قومی انتخابات کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کیا، جس میں لاکھوں ووٹرز مختلف حلقوں سے پارلیمنٹ کے ارکان منتخب کریں گے۔
انتخابی تیاریوں میں چیلنجزانتخابات تک پہنچنے کا عمل آسان نہیں رہا۔ سب سے بڑا چیلنج ووٹر فہرستوں کی نئے سرے سے تیاری، نئے اور پہلی بار ووٹرز کا اندراج، اور انتخابی ضوابط کی تیاری تھی، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے فہرستوں اور نظام میں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ سیاسی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات پرامن اور محفوظ طور پر ہو سکیں۔
سیاسی منظرنامہ اور عوامی توقعاتیہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک اہم جمہوری مرحلہ ہیں کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام ایک نئی سیاسی ترتیب کے تحت ووٹ ڈال رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں طویل عرصے تک انتخابی عمل ایک ایسے سیاسی تسلسل کے تحت چلتا رہا جہاں ریاستی ڈھانچہ، بیوروکریسی اور انتخابی نظم و نسق پر حکمران جماعت کا واضح اثر سمجھا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، 394 بین الاقوامی مبصرین، 197 غیرملکی صحافی مشاہدہ کریں گے
’نئی سیاسی ترتیب‘ سے مراد یہ ہے کہ اس بار وہی انتظامی و سیاسی تسلسل موجود نہیں، بلکہ اقتدار کا ڈھانچہ احتجاجی تبدیلی کے بعد ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔ جب کہ سابق حکمران پارٹی انتخابات میں شامل نہیں ہے۔
عوام خصوصاً نوجوان ووٹرز جمہوری بحالی، آئینی اصلاحات، انصاف اور معاشی ترقی کی امید رکھتے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور حکومت عبوری طور پر انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش پروفیسر یونس خالدہ ضیا شیخ حسینہ واجد عام انتخابات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پروفیسر یونس خالدہ ضیا شیخ حسینہ واجد عام انتخابات نیشنل سٹیزن پارٹی بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے عام انتخابات عبوری حکومت اور عوامی کررہی ہے میں ایک ملک میں رہے ہیں رہی ہے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔