متحدہ عرب امارات؛ رمضان کے دوران اوقاتِ کار کا اعلان؛ کتنی رعایت ملی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
رمضان کی آمد آمد ہے اور اس بابرکت مہینے کی رحمت بھری ایک ایک ساعت سے مستفید ہونے کے لیے ابھی سے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی اس مقدس ماہ رمضان المبارک کے دوران وفاقی وزارتوں اور اداروں کے لیے سرکاری اوقاتِ کار کا اعلان کر دیا۔
جس کے تحت رمضان کے دوران سرکاری اوقاتِ کار پیر سے جمعرات صبح 9 بجے سے دوپہر 2:30 بجے تک جب کہ جمعے کو صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ہوں گے۔
مزید یہ کہ جمعے کے روز 70 فیصد تک عملے کو ورک فرام ہوم کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے بشرطیکہ یہ فیڈرل اتھارٹی کے منظور شدہ ضوابط کے مطابق ہو۔
البتہ شفٹس میں کام کرنے والے ملازمین کے اوقات کار انفرادی طور پر ہر ادارہ ضرورت کے مطابق خود کرے گا تاکہ ملازمین کی سہولت اور اداروں کی پیداواری صلاحیت دونوں کو برقرار رکھا جاسکے۔
یاد رہے کہ رمضان کے دوران سرکاری اوقات میں یہ تبدیلی ملازمین کو روزانہ عبادات، افطار اور دیگر مذہبی اعمال کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے کے حوالے سے کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عرب ممالک میں اس بار رمضان کا آغاز 19 فروری سے متوقع ہے تاہم حتمی اعلان چاند دیکھنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔