امریکا سے تجارتی معاہدے کیخلاف بھارتی کسان سراپا احتجاج، 12 فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے خلاف ملک بھر میں کسانوں نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے 12 فروری کو ہڑتال کی کال دے دی ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کسان یونین اور دیگر زرعی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت نے زرعی شعبے کے حوالے سے امریکا کو غیر ضروری اور حد سے زیادہ رعایتیں دی ہیں جو ملکی کسانوں کے مفادات کے خلاف ہیں اور اس کے منفی اثرات مقامی زراعت پر مرتب ہوں گے۔
اسی سلسلے میں بھارتی پنجاب میں کسانوں نے امریکا بھارت تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے، اس دوران مظاہرین نے دونوں ممالک کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی اور علامتی طور پر رہنماؤں کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور زرعی شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہوجائے گا۔
کسان تنظیموں نے معاہدے کو مودی حکومت کی پالیسی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکا کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے، عالمی منڈی کے دباؤ اور درآمدات میں ممکنہ اضافے سے مقامی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض بھارتی زرعی مصنوعات کو امریکی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، کیلے اور آم سمیت چند مصنوعات کو امریکا میں زیرو ٹیرف پر برآمد کرنے کی اجازت ملے گی، جس سے برآمدات میں اضافہ اور کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں تقریباً 80 فیصد کسان چھوٹے کاشت کار ہیں، جو دو ہیکٹر یا اس سے کم زمین کے مالک ہیں، جس کے باعث ان کی آمدنی پہلے ہی محدود ہے، کسان ملک میں ایک مضبوط اور بااثر ووٹنگ بلاک سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتیں عموماً زرعی طبقے کے تحفظات کو نظرانداز کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
حالیہ احتجاج اور ہڑتال کی کال کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔