صیہونی میڈیا کے جھوٹ پر سید عباس عراقچی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب بھی میریام ایڈلسن سے منسلک میڈیا، ایران کے بارے میں کوئی سنسنی خیز دعویٰ کرے، تو یہ پوچھنا چاہئے کہ یہ دعویٰ کس کے مفاد میں ہے؟۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے صیہونی میڈیا کے جھوٹ پر سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ کیا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ جب بھی میریام ایڈلسن سے منسلک میڈیا، ایران کے بارے میں کوئی سنسنی خیز دعویٰ کرے، تو یہ پوچھنا چاہئے کہ یہ دعویٰ کس کے مفاد میں ہے؟۔ خود امریکی صدر بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ اُن (میریام ایڈلسن) کی اصل وفاداریاں کس (اسرائیل) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس میں "نیتن یاہو" کی ملاقات سے محض ایک گھنٹہ قبل، میریام ایڈلسن سے وابستہ میڈیا نے اپنی تازہ ترین خبر میں یہ دعویٰ کیا کہ ایران نے "ڈونلڈ ٹرمپ" کو دھوکہ دیا۔ حالانكہ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں نہ تو کوئی پھانسی دی گئی، نہ ابھی تک کوئی عدالتی عمل پایۂ تکمیل کو پہنچا اور نہ ہی دو ہزار سے زائد قیدیوں کو معافی دی گئی۔ سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آپ پر تھوپی جانے والی اس خبر کو قبول کرنے سے پہلے غور کریں کہ اس سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور حقیقت میں کون دھوکہ دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔