Express News:
2026-06-03@00:27:13 GMT

بسنت یعنی چہ؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

کئی سال کے وقفے کے بعد اس سال پھر سے بسنت کے انعقاد کا احیا ہوا ہے۔ زندہ دلان لاہور نے بسنت بڑے زور شور سے منایا۔ اربوں روپے پتنگ بازی اور خور و نوش پر خرچ کر دیے گئے۔ تقریبات کے تیسرے روز دہلی دروازے پر بڑا جلسہ ہوا، جس میں سفارتکاروں اور شوبز سے وابستہ افراد نے شرکت کی ، مہمان خواتین نے پیلے رنگ کے ملبوسات پہنے۔

بسنت کے سلسلے میں ہندو اساطیری روایات بڑی دلچسپ ہیں۔ بھارت کی اس عہد کی ایک دیوی کی صاحبزادی کو جس کا حسن و جمال بے مثال تھا پاتال کے دیوتا نے اغوا کر لیا اور پاتال میں لے جا کر اپنی سلطنت میں چھپا لیا۔ پاتال زمین کے اندرون میں ایک مفروضہ مملکت ہے جس کا راجہ بڑا طاقتور تھا۔ دیوی اپنی بیٹی کی جدائی میں ہوش و ہواس کھو بیٹھی، پوری دنیا میں بیٹی کو ڈھونڈتی رہی مگر وہ کہاں ملتی، کیوں کہ پاتال تک رسائی تو دیوتاؤں کے بس میں بھی نہیں تھی۔

بالآخر اندر دیوتا کی سربراہی میں ایک اجلاس بلایا گیا جس میں سارے دیوتا مدعو تھے اور سبھی نے دیوی کی صاحبزادی کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی۔ بڑی کاوش کے بعد پاتال کے خوں خوار دیوتا نے تسلیم کر لیا کہ لڑکی اس کے پاس ہے مگر اس نے اس سے بیاہ کر لیا ہے اور اسے واپس کرنے کو تیار نہیں۔ دیوتاؤں کی کوششوں سے فیصلہ ہوا کہ اب جب کہ وہ پاتال کے دیوتا کی بیوی ہے، دیوتا اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ طے پایا کہ سال کے چھ ماہ میں وہ ماں کے پاس رہے گی اور چھ ماہ پاتال دیوتا کے ساتھ۔ اس پر طرفین راضی ہو گئے، اب جب لڑکی اپنی ماں کے پاس آتی ہے تو بہار کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔

ہر طرف پھولوں کی شادابی ہوتی ہے، خوشیوں سے فضا بھر جاتی ہے۔ یہ مسرتوں کا دورانیہ بسنت کہلاتا ہے اور جب لڑکی پاتال دیوتا کے گھر چلی جاتی ہے تو دنیا پر خزاں کا موسم چھا جاتا ہے، ماں پھر سے افسردہ ہو کر جنگلوں کی خاک چھاننے نکل جاتی ہے مگر اب یہ جدائی ابدی نہیں رہتی ہر بار بسنت بہار آ کر دیوی کی زندگی کو لالہ زار اور پُربہار بنا دیتی ہے۔ ہندومت میں اسی کشمکش کی یادگار بسنت کے طور پر منائی جاتی رہی اور دیوی کی شہزادی کی باریابی کی علامت کے طور پر بسنت کی تقریبات مذہبی جوش و جذبے سے منائی جانے لگیں۔

مسلمانوں نے بھی اسے موسمی تبدیلی اور خوش گوار تبدیلی کے طور پر منانا شروع کیا اور جس طرح ہم نئے سال کے آغاز پر آج بھی جشن مناتے ہیں۔ ایران میں نوروز کے جشن کا رواج آج بھی ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی بغیر سوچے سمجھے اور بسنت کے مذہبی پس منظر سے بظاہر ناواقفیت کے سبب اسے ایک خوشی کے تہوار کے طور پر منانا شروع کر دیا گیا۔

 اسلام نے مسلمانوں کے لیے عید کے دو تہوار مقرر کیے تھے یہ خوشی منانے کے دن بھی ہیں لیکن ہر خوشی عبادات کے ساتھ مشروط ہے اور خوشیاں منانے کے طریقے بھی بے لگام نہیں ہیں ان میں وقار و تمکنت بھی، عبادت و ریاضت بھی اور اس کے نتیجے میں خوشی اور مسرت بھی ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے دنوں کے الٹ پھیر میں، موسموں کی آمد و شد میں انسانی زندگی کے لیے امکانات چھپے ہیں اور یہ تمام مظاہر قدرت انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتے ہیں۔ مومن ان کا پابند نہیں ہوتا یہ سب موسمی نشیب و فراز انسانی زندگی کے لیے مناسب ماحول پیدا کرتے ہیں اور بس!

 تہواروں کے منانے میں اسراف کو بھی ناپسند کیا جاتا ہے اب جو یہ بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے اس کا ایک اور پہلو اسراف ہے۔ بھلا بتائیے کہ ایک ایک پتنگ کی قیمت ہزاروں روپے تک پہنچ گئی ہے، پھر جشن منانے کے ساتھ ’’خوش خوراکی‘‘ کا بھی مظاہرہ روا رکھا گیا ہے اور رات کو انواع و اقسام کے لذیذ اور ’’مضر صحت‘‘ کھانوں کا ایسا اہتمام کیا گیا جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات آئے۔ ہمارے جیسے ملک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہمارا ملک قرضوں کے بوجھ سے دبا جا رہا ہو اور ہم کاغذ کی پتنگوں کی وہ قیمت ادا کر رہے ہوں گویا وہ سونے چاندی کے ورقوں سے بنائی گئی ہوں۔

فراوانی زر اور اس کی ریل پیل دیکھ کر بھلا کون یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ قرضوں سے لدے ملک کے عوام کا طریقہ حیات ہے۔ اس سارے معاملے کا ایک ناخوش گوار پہلو یہ بھی ہے کہ ’’عوامی مسرت‘‘ کے لیے موقع کی فراہمی کے لیے حکومت کی مدح سرائی تو ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی لیکن اس کے مضمرات پر کسی کی نظر نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے طور پر دیوی کی بسنت کے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی