اسپیکر قومی اسمبلی نے سردار اختر مینگل کا استعفا 17 ماہ بعد منظورکرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-01-14
اسلام آباد (صباح نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک ) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا استعفا تقریباً 17 ماہ کے طویل انتظار کے بعد منظور کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دیا تھا، جسے اب اسی پرانی تاریخ سے نافذ العمل قرار دیتے ہوئے منظور کیا گیا ہے۔ سردار اختر مینگل فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 256 خضدار سے رکن منتخب ہوئے تھے، ان کی رکنیت ختم ہونے کے بعد یہ نشست اب باقاعدہ خالی ہو گئی ہے جس پر آئندہ تین ماہ میں ضمنی الیکشن متوقع ہے۔ دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارلیمانی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کے استعفے کو ایک سال 5 ماہ تک معطل رکھنا اور پھر اچانک منظور کر لینا جمہوری عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اختر مینگل نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کی، جسے منفی تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں۔ تحریک نے اپوزیشن اراکین کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں اور نااہلی کے فیصلوں کو پارلیمانی بالادستی پر حملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسپیکر کا منصب غیر جانبداری اور آئینی دیانت کا تقاضا کرتا ہے، سیاسی اختلافات کو انتقام میں بدلنے کے بجائے جمہوری دائرے میں حل کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اختر مینگل
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔