کوئٹہ میں ایرانی انقلات کی 47 ویں سالگرہ پر قونصل جنرل کا خطاب، دہشت گردی کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کوئٹہ:
اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی نے کہا کہ ایرانی عوام نے متحد ہوکر اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے اسلام آباد اور بلوچستان میں پیش آنے والے دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ایران و پاکستان اس انسانیت سوز ناسور کا یکساں طور پر شکار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اصولی طور پر ہر قسم کی دہشتگردی کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران خود کو خطے اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، آزاد اور مؤثر کردار ادا کرنے والا ملک سمجھتا ہے اور ہمیشہ امن، مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
محمد کریمی تودشکی نے کہا کہ ایران کے آئین کے تحت ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم بعض مواقع پر بیرونی مداخلت نے صورتحال کو خراب کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب حکومت مظاہرین سے مذاکرات میں مصروف تھی تو امریکہ کی مداخلت نے بدامنی کو ہوا دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادہ رہا ہے اور قومی مفادات و علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی تناظر میں مذاکرات کا نیا دور 6 فروری 2026 سے شروع ہوچکا ہے۔
پاک ایران تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ مالی سال میں پہلی بار دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون میں مثبت پیش رفت کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہ ایران کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔