دوحہ، ڈاکٹر علی لاریجانی کی امیر قطر کیساتھ ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سیکرٹری جنرل سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اسلامی جمہوریہ ایران نے آج دوحہ میں امیر قطر کیساتھ ملاقات و گفتگو کی ہے اسلام ٹائمز۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ملاقات و گفتگو کی ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل، آج صبح قطر کے لئے روانہ ہوئے جو عمان کے بعد خطے کے ان کے دورے کی دوسری منزل ہے، جہاں وہ اعلی قطری حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق قطری دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد وہ امیر قطر کے ساتھ ملاقات و گفتگو کے لئے امیری محل پہنچے۔
ادھر قطری امیری دیوان نے بھی اعلان کیا ہے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خطے میں استحکام اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے بارے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر علی لاریجانی کا یہ دورہ، اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے علاقائی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی و علاقائی صورتحال کے بارے خطے کی سطح پر بات چیت کو مضبوط بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے سفارتی اقدامات کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ساتھ ملاقات کے ساتھ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔