سردار اخترمینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ 17 ماہ بعد منظور کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قومی اسمبلی کی رکنیت سے دی گئی استعفے کی درخواست بالآخر طویل انتظار کے بعد منظور کر لی گئی، جس کے ساتھ ہی قومی سیاست میں ایک اہم باب اختتام کو پہنچ گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گزشتہ شب اختر مینگل کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کر لیا، جس کا اطلاق اسی تاریخ سے کیا گیا ہے جس دن انہوں نے تحر یری طور پر ایوان سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو بلوچستان کے مسائل اور صوبے سے متعلق مطالبات پورے نہ ہونے پر بطور احتجاج قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم مختلف انتظامی اور پارلیمانی وجوہات کے باعث یہ معاملہ تقریباً 17 ماہ تک التوا کا شکار رہا۔ اس دوران وہ جنوری 2026 تک بطور رکن قومی اسمبلی تمام مراعات اور سہولیات سے استفادہ کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر کی جانب سے استعفیٰ منظور کیے جانے کے فیصلے کے بعد این اے 256 خضدار ون کی نشست باضابطہ طور پر خالی قرار دے دی گئی ہے، جس پر آئینی تقاضوں کے مطابق آئندہ تین ماہ کے اندر ضمنی انتخاب کرایا جائے گا۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان جلد ہی انتخابی شیڈول جاری کرے گا تاکہ حلقے کو دوبارہ نمائندگی فراہم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ سردار اختر مینگل فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار ون سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے تھے۔ تاہم بلوچستان کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں، سیاسی خودمختاری اور دیگر بنیادی مطالبات کی عدم منظوری پر انہوں نے اسمبلی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے ان کے حامیوں نے صوبے کے عوام کے جذبات کی ترجمانی قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل قومی اسمبلی اختر مینگل
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان