لبنانی مزاحمتی تحریک نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں اسے عصر حاضر کی تاریخ کا روشن ترین موڑ قرار دیا کہ جو گذشتہ برسوں کے دوران مزید مضبوط، زیادہ اثر انگیز اور زیادہ متاثر کن ہوا ہے اسلام ٹائمز۔ لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے انقلاب اسلامی ایران کی فتح کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے انقلاب اسلامی ایران کو عصر حاضر کی تاریخ کا ایک روشن ترین موڑ قرار دیا کہ جو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں قائم ہوا اور امام خامنہ ای کی رہنمائی و رہبری میں سالہا سال گزارنے کے بعد مزید مضبوط، زیادہ اثر انگیز اور زیادہ متاثر کن ہوا ہے۔ حزب اللہ لبنان نے تاکید کی کہ ایران کا اسلامی انقلاب آج اپنی 47ویں بہار کے آغاز میں اپنے تمام اصولوں و قوانین پر استقامت کے ساتھ گامزن ہے اور استکباری طاقتوں کے قبضے، انحصار و تسلط کے خلاف آزادی، استقلال اور مزاحمت کی راہ میں تمام مظلوم قوموں کے لئے نمونہ عمل ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ و قابض صیہونی ریجیم کی دھمکیوں میں شدت کا ذکر کرتے ہوئے لبنانی مزاحمتی تحریک نے تاکید کی کہ یہ دباؤ اسلامی جمہوریہ کے اثر و رسوخ کی توسیع کے بارے عالمی و علاقائی استبدادی طاقتوں کے خوف اور گہری تشویش کی علامت ہے؛ ایک ایسا نمونہ کہ جس نے تمام قوموں کو تسلط و استحصال کی شوم سازشوں کے خلاف مزاحمت کی ترغیب دی ہے۔

حزب اللہ لبنان نے کہا کہ 11 فروری 1979 کے روز اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد سے جاری مغرب و قابض صیہونی ریجیم کی کئی ایک دہائیوں پر محیط سازشوں اور سخت محاصرے کے باوجود، ایران کی مسلسل ترقی و خوشحالی اُن معاندانہ پالیسیوں کی مکمل ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنہوں نے دنیا بھر کے سامنے استعمار (استثمار) کا اصلی چہرہ اور تسلط پسند حکومتوں کی جابرانہ پالیسیوں کو آشکار کر کے رکھ دیا ہے۔ لبنانی مزاحمت نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں کی ایران کے خلاف دھمکیوں اور جنگ کی جانب توجہ، نہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہی عالمی جارحیت و استکبار کے مقابلے کی واحد حقیقی و خود مختار قوت ہے بلکہ اس حقیقت نے پرامن ایٹمی پروگرام اور میزائل دفاعی صلاحیت میں اس کے قانونی حق کے ساتھ ساتھ قبضے اور تسلط کے خلاف علاقائی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت میں ایران کی طاقت و استحکام کے حوالے سے مظلوم اقوام کا اعتماد بھی دوگنا کر دیا ہے۔
  اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسی طاقت کہ جو جائز حقوق پر مبنی نہ ہو، ظلم و تباہی کا باعث بنتی ہے؛ لیکن وہ طاقت کہ جو جائز حقوق کا دفاع کرتی ہو، تمام اقوام کے لئے استحکام، انصاف اور ترقی کا نمونہ بن جاتی ہے۔ لبنانی مزاحمت نے فلسطینی کاز کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موثر کردار کو سراہتے ہوئے، فلسطین، لبنان اور شام میں غاصبانہ قبضے اور اسرائیلی جرائم کی مذمت سمیت غزہ کے عوام کے قتل عام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا اور تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، نہ صرف ثابت قدمی کے ساتھ لبنانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا اور ان کی سرزمین پر مزاحمت و دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے بلکہ وہ اپنی خودمختاری و استقلال کے نفاذ پر مبنی تمام اقوام کے مسلمہ حق کی بھی کھل کر حمایت کرتا ہے۔ اپنے بیان کے آخر میں حزب اللہ لبنان نے تاکید کی کہ ہم حزب اللہ اور لبنانی اسلامی مزاحمت میں، آزادی پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کے نمونہ عمل کو فخر کے ساتھ سراہتے اور انقلاب کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام و بہادر قوم کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران حزب اللہ لبنان ایران کے کے خلاف کے ساتھ کی فتح

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت