data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن اور ٹاؤن چیئرمین ناظم آباد سید محمد مظفر کے ہمراہ ناظم آباد ٹائون کے تحت ناظم آباد نمبر 1 میں راشد منہاس ایجوکیشنل کمپلیکس او ر 1ہزار گھروں کو پانی کی فراہمی کے لیے قائم پمپنگ اسٹیشن کا افتتاح کر دیا ، حافظ نعیم الرحمن نے ایجوکیشنل کمپلیکس کاتفصیلی دورہ کیا اور اساتذہ، طلبہ و طالبات سے ملاقات بھی کی۔ بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ راشد منہاس ایجوکیشنل کمپلیکس کو بہترین طریقے سے بنانا انتہائی خوش آئند اور 1ہزار گھرانوں میں پانی کی فراہم کے لیے قائم پمپنگ اسٹیشن ناظم آباد کے مکینوں کے لیے تحفہ ہے ، جماعت اسلامی صرف مطالبات کی سیاست نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر عوام کو سہولتیں فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ہم اپنے حصے کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی حقوق کی جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کا دھرنا عوام کے حق، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے لیے ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے ٹاؤنز کو انتہائی محدود وسائل دیے جاتے ہیں جن کا بڑا حصہ تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا ہے جبکہ واٹر اینڈ سیوریج ،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر محکمے الگ ہونے کے باوجود یہ ذمے داریاں بھی ٹاؤن انتظامیہ کو نبھانی پڑتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے سڑکوں، پارکس، اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹائون چیئر مین سید محمد مظفر نے کہا کہ ناظم آباد پمپنگ اسٹیشن سے تقریباً ابھی1ہزار گھرانوں میں15 سال بعد پانی پہنچا ہے ،یہ پمپنگ اسٹیشن تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی زاید مالیت سے بنااور پمپنگ اسٹیشن کو مزید اپ گریڈ کریں گے جس سے مزید500 گھرانوں کو پانی میسر ہوگا۔ ناظم آباد پمپنگ اسٹیشن پانی وٹینکر مافیا کی رکاوٹ کے باوجود 6 ماہ کی مدت میں مکمل کیا گیا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ سندھ کا تعلیمی بجٹ 613 ارب روپے ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ 28 ہزار اسکولوں میں بیت الخلا کی سہولت نہیں، 15 ہزار میں بجلی موجود نہیں جبکہ 78لاکھ سے زاید بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صورتحال حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی پورے پاکستان کے بچوں کے لیے یکساں، معیاری اور منصفانہ نظام تعلیم چاہتی ہے۔جماعت اسلامی کے زیر انتظام ٹاؤنز میں اب تک 43 اسکولوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر 100 سے زاید اسکولوں میں بہتری لائی گئی ہے۔ اساتذہ کو سہولیات دیئے بغیر معیاری تعلیم ممکن نہیں۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے بنو قابل پروگرام کے تحت بچوں اور بچیوں کو مفت آئی ٹی کورسز فراہم کیے جائیں گے، جس میں 100فیصد اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ جیسے الیکٹریشن، پلمبنگ، سلائی، ہینڈ کرافٹس اور سولر سسٹم کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ بچے بااختیار بن سکیں۔ہمارا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو تعلیم اور ہنر دونوں سے لیس ہو، اپنے گھر، شہر اور ملک کا سہارا بن سکے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان،وائس ٹائون چیئر مین نعمان صدیقی ،وائس ٹائون چیئر مین نارتھ ناظم آباد ضیا الدین جامعی ، ڈپٹی ڈائریکٹر نوید حبیب ، چیئرمین اسٹیرنگ کمیٹی محمد علی ،سیکرٹری ضلع وسطی سہیل زیدی، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر موجود تھے ۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی پمپنگ اسٹیشن کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی