آئینی دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام،اپوزیشن لیڈر،محمود اچکزئی کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محموداچکزئی نے کہا ہے کہ آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں، جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں،کیا یہ پارلیمنٹ مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے کے لیے ہے، پاکستان ہمارا ملک ہے ہمیں آبادی کے تناسب سے حکمرانی میں اپنا حصہ چاہییجبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے،اپوزیشن لیڈر نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ میں نے کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، میں نے جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھاکہ میں 90سے اسمبلی میں آرہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں، میں نے کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟ اسپیکر ایاز صادق نے ریمارکس دیے کہ آپ فوج کی بات نہ کریں، شہدا کی بات کریں۔ محمود اچکزئی کا کہنا تھاکہ ہم نے انگریزوں کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، یہاں کے لوگ انگریزوں کے ساتھ تھے،ہمارے ساتھ لڑ رہے تھے، پاکستان ہمارا ملک ہے ہمیں آبادی کے حساب سے اپنا حصہ چاہیے۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمیں حق حکمرانی میں اپنا حصہ چاہیے، ہم یہ تعصب کی بنیاد پر نہیں کر رہے، میں اس ملک کا باسی ہوں جمہوریت کے مخالفین کے خلاف بولوں گا، آپ نے ہمیں جمہوریت کی حمایت میں سزائیں دیں، آپ نے پشتونوں کی اقتصادی خودکشی کرادی۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ نوازشریف نے کہا افغانوں کو شہریت دینے میں کوئی برائی نہیں، کیا یہ پارلیمنٹ مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے کے لیے ہے، آئین کے دائرہ میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر کے فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کی فوج 4 ضلعوں کی فوج ہے، اس طرح کے غیرذمے دارانہ بیان کی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے توقع نہیں تھی، اپوزیشن لیڈر نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی فوج ہے، پاکستان کی فوج کا تشخص قومی ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پنجابیوں کا آئی ڈی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں گولی ماری جاتی ہے، پنجابیوں کو گولی مارنے پر بلوچستان سے کوئی آواز نہیں اٹھتی، کیا یہ چار ضلعوں کی فوج ہے یا وطن عزیز کی فوج ہے؟ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ قومی عہدہ ہے،کسی ضلع کا عہدہ نہیں، اس عہدے پر بیٹھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان دینا عہدے کی توہین ہے، یہ وطن اور قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی جنگ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلع کی فوج نہیں ہے ، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے، اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کردی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہی ہے، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں، شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں، شہید اول و آخر پاکستانی ہوتا ہے اس کا تعلق ضلع سے نہیں ہوتا۔ قومی اسمبلی میں فوج سے اظہاریکجہتی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ منظور کرلی گئی، قرارداد وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اسمبلی میں خواجہ ا صف وزیر دفاع کی فوج ہے کا کہنا نے کہا
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔