عوامی ریفرنڈم تھا تو فیصلہ مان لیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ہر دور میں حکومتیں اپنے خلاف احتجاج و ہڑتال کو ناکام اور اپوزیشن احتجاج و ہڑتالوں کو حکومت کے خلاف اور اپنے حق میں کامیاب قرار دیتی آئی ہیں جو کوئی نئی بات نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ جھوٹ کو حکومت اور اپوزیشن نے اپنا فرض اولین نہ صرف بنا رکھا ہے بلکہ جھوٹوں میں مسلسل اضافہ اپنا اصول بنا لیا ہے اور دونوں اپنے اپنے اصولوں پر ڈھٹائی سے کاربند ہیں اور عوام دونوں کا تماشا دیکھتے دیکھتے تنگ آ گئے بلکہ بے زار ہو کر رہ گئے ہیں جس کا ثبوت 8 فروری کو ہونے والے اپوزیشن کے احتجاج اور حالیہ جزوی ہڑتالوں سے مل گیا اور یہ جزوی ہڑتال سندھ و پنجاب میں ناکام اور کے پی اور بلوچستان میں جزوی طور پر ناکام قرار دی گئی مگر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے پرانے موقف پر ڈٹے رہے اور وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلی دفعہ دیکھا کہ پہیہ جام ہی جام ہوگیا۔ اپوزیشن کی طرف سے حسب معمول اسے عوامی ریفرنڈم قرار دیا گیا اور ہڑتال کو کامیاب قرار دیا گیا۔
8 فروری کو اپوزیشن نے یوم سیاہ، احتجاج، ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کا کہا تھا جب کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کی طرف سے الگ الگ موقف تھے اور تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے بھی 8 فروری کے شوکو ناکام قرار دیا اور بتایا کہ کراچی و اسلام آباد سمیت اکثر شہروں میں معمولات زندگی بحال رہے اور ملک کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں تو پتا ہی نہیں چلا کہ اتوار کو ہونے والا احتجاج ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کہاں گیا کیونکہ ہر جگہ ٹریفک رواں دواں، کاروبارجو ہر اتوارکو جاری رہتا ہے وہ اس بار بھی جاری رہا اور حکومتوں نے بھی اپنی دیرینہ روایت کو برقرار رکھ کر اپوزیشن کے کارکنوں کوگرفتارکیا صرف کے پی میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی،کیونکہ وہاں کے پی کی حکومت خود ہڑتال پر تھی مگر کے پی کے سینئر رہنما زاہد خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ہڑتال ناکام، کے پی میں کسی نے گاڑی روکی نہ دکان بند ہوئی۔
ملک بھر میں تاجروں اور ٹرانسپورٹر نے خود کو الگ رکھا۔ کے پی میں پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے مختلف علاقوں میں جبری طور دکانیں بند کرائیں جو دوپہر کے بعد کھل گئیں۔ کے پی کے ٹرانسپورٹرزکا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیں کون سی رعایت یا سہولت دی کہ ہم ٹرانسپورٹ بند کر کے اپنے عملے کو بے روزگار، عوام کو پریشان اور اپنا مالی نقصان کریں کیونکہ بے روزگاری اور مہنگائی میں ہم ہڑتال کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں ہڑتال سے کیا فائدہ؟ سندھ میں آئے دن قوم پرست منتظمین اپنی سیاست زندہ رکھنے کے لیے ہڑتالیں کراتی رہتی ہیں اور ان کے کارکن ایک روز قبل بازاروں میں جا کر دکانداروں سے دکانیں بند رکھنے کی درخواستیں ضرور کرتے ہیں اور دوپہر کے بعد دکانیں کھلنا معمول رہا ہے جب کہ اس کے برعکس ایم کیو ایم کی ماضی میں کراچی و حیدر آباد میں ہڑتالیں جبری طور فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلا کر ضرور کرائی جاتی تھیں مگر جن علاقوں میں ایم کیو ایم کا اثر و رسوخ نہیں ہوتا تھا یا کہیں مکس آبادی ہوتی تھی وہاں ہڑتال پھر بھی نہیں ہوتی تھی اور ہڑتال والے علاقوں کے لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے وہاں جاتے تھے تو وہاں کے دکاندار اپنے نئے گاہکوں سے پوچھتے تھے کہ ہڑتال سے ان کا اپنا ہی نقصان ہے اور آپ کے یہاں آنے کا ہمیں زیادہ فائدہ ہے تو جواب ملتا تھا کہ ہم کیا کریں مجبور ہیں آپ کے سوال کا جواب ہڑتال کرانے والے ہی دے سکتے ہیں۔
جب کراچی میں واقعی کامیاب ہڑتال اور پہیہ جام ہوتا تھا تب بھی سندھ حکومت اسے ناکام قرار دیتی تھی جب کہ حالت یہ ہوتی تھی کہ شہر کی گلیوں کی بھی دکانیں بند اور ضرورت مند روپے ہاتھوں میں پکڑے کچھ یا خوراک خریدنے کے لیے جگہ جگہ بھاگے پھرا کرتے تھے۔قوم پرست رہنما زین شاہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ و دیگر رہنماؤں کو سندھ میں ہڑتال نہ صرف کامیاب نظر آئی بلکہ انھوں نے ہڑتال کی مبینہ شاندارکامیابی کو عوام کی بیداری قرار دے دیا اور ہڑتال نہ کرنیوالے عوام سے اظہار تشکر بھی کیاجب کہ جے یو آئی اور جی ڈی اے نے سندھ میں پرامن یوم احتجاج اور یوم سیاہ منایا اور پریس کلبوں پر جا کر اپنے احتجاج کا حق ادا کیا۔سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کر دی۔ پنجاب کے جشن بسنت کی شاندارکامیابی پر وزیر اعلیٰ نے ہڑتال پر کوئی بیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی اپنانے کا اعلان کیا۔ وفاق اور تین صوبوں کی حکومتوں نے وہی کیا جو ماضی سے ہوتا آیا ہے۔
پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں و رہائی مگرکہیں لاٹھی چارج کی خبریں نہیں ملیں۔ 8 فروری خیریت سے گزر گیا اور حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی جگہ خوش کہ ان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔8 فروری کے احتجاج سے بانی اور ان کی بہنوں کو یقینی طور مایوسی اور حکومت اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے مگر عوام بسنت اور اپنے معاملات میں مصروف رہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو کہیں بھی اپنے بانی کی تصاویرکی پتنگیں آسمان پر نظر آئیں نہ قابل ذکر لوگ سڑکوں پر نکلے۔ پی ٹی آئی کے حامی مان لیں کہ 8فروری عوامی ریفرنڈم نہیں تھا اس لیے ملکی حالات، دہشت گردی، بے روزگاری اور مہنگائی میں یہ ریفرنڈم مکمل ناکام رہا اور حکومت نے دو سال پورے کرلیے مگر حکومت بھی ندامت میں رہی اور اس نے اپنی دو سالہ کارکردگی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ ہی عوام کو ریلیف دیا کیونکہ حکومت نے دو سال میں عوام کے لیے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور اپوزیشن اور حکومت پی ٹی آئی ہے اور
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔