عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-24
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو روک دیا۔وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔ وفاق نے 16 مئی 2025 ء کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں ترمیم کی اجازت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرِاعظم اور کابینہ سے امریکا میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ درخواست میں ترمیم عدالتی اختیارات سے تجاوز ہے جبکہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ وفاق کے مطابق معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے جڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔