فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اپوزیشن لیڈر کا بیان افسوسناک اور حقائق کے منافی ہے: سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
لاہور: سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج سے متعلق حالیہ بیان کو افسوسناک اور حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا کردار صرف قومی سلامتی تک محدود ہے۔
لاہور میں میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج، پولیس یا دیگر سیکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، ملک کے اندر ہونے والی اسپانسرڈ دہشت گردی کے پس منظر میں بھارت کا کردار موجود ہے۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں حالیہ خودکش حملے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی جبکہ ملک کے اندر اور باہر موجود سازشی عناصر کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔
ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور قوم کو لسانی، نسلی یا صوبائی بنیادوں پر تقسیم ہونے کے بجائے متحد ہو کر انتہا پسند عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ بیرونی حمایت یافتہ عناصر صوبے کے امن اور ترقی کے دشمن ہیں، ماضی میں بڑی مقدار میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی، جس سے حاصل ہونے والی رقوم دہشت گردی میں استعمال ہوتی تھیں، تاہم اب اس غیر قانونی سرگرمی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، مؤثر حکمرانی اور ترقیاتی اقدامات ہی دہشت گردی کے مستقل خاتمے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور صوبے کے عوام ایسے عناصر کو مسترد کر رہے ہیں جو محرومی کے نام پر تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بھی سیکیورٹی ذرائع نے نیشنل ایکشن پلان کو کلیدی قرار دیا اور حالیہ اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ جس طرح ماضی میں قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، اسی طرح دہشت گردی کے خلاف بھی کامیابی قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے،تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوان نسل سمیت عوام کی بڑی تعداد پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے درمیان تعلق کو کمزور نہیں کر سکتا، جبکہ اپوزیشن لیڈر کا حالیہ بیان غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد ہے،سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ان کا آئینی حق ہے، تاہم فوج کا سیاست یا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں،قانونی اور عدالتی نوعیت کے تمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سیکیورٹی ذرائع دہشت گردی کے کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔