نارتھ کراچی :محکمہ تجاوزات اورکے الیکٹر ک کے عملے کے درمیان جھگڑا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) نارتھ کراچی کے پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور کے الیکٹرک کے عملے کے درمیان تلخ کلامی کے باعث جھگڑا ہو گیا، جس دوران دونوں اداروں کے عملے کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان جھگڑا اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ مشتعل افراد ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے۔ پولیس کو فوری طور پر واقعے کی اطلاع دی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ایس ایچ او تھانہ اجمیر نگری، فیض الحسن کے مطابق علاقے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری تھا، اور اسی آپریشن کے دوران اینٹی انکروچمنٹ اور کے الیکٹرک کے عملے کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔سینئیر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ، عمار خان نے اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ کے الیکٹرک کو تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے تین بار نوٹس جاری کیے جا چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج (منگل) کو بھی اینٹی انکروچمنٹ کا عملہ کے الیکٹرک کے دفتر تجاوزات ہٹانے کے لیے پہنچا، جہاں کے الیکٹرک کے عملے کی جانب سے مغلظات دی گئیں، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔پولیس کے مطابق، اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا گیا اور دونوں محکموں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے عملے کے درمیان اینٹی انکروچمنٹ کے الیکٹرک کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔