data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ / محمد علی فاروق ) سندھ پولیس کے ایک سینئر افسر نے پیشہ ورانہ چیلنجز اور داخلی مسائل کی وجہ سے انسپکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ایس آئی او ابراہیم حیدری انسپکٹرفرید خان نے سندھ پولیس میں انسپکٹر انویسٹی گیشن کے طور پر اپنے استعفیٰ کی درخواست پیش کی ہے، جس میں انہوں نے انویسٹی گیشن آفیسرز کو درپیش متعدد مسائل کا ذکر کیا ہے ۔ اپنے استعفے میں انہوں نے کہا کہ “پولیس ڈیپارٹمنٹ نے مجھے معاشرے میں انصاف اور توازن برقرار رکھنے کے لیے مقرر کیا، لیکن بدقسمتی سے انویسٹی گیشن آفیسر کو بہت سی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایس آئی او ابراہیم حیدری فرید خان نے انکشاف کیا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کو نہ صرف وسائل کی کمی کا سامنا ہے بلکہ انہیں سینئرز کی جانب سے مداخلت، دھمکیاں اور ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “انویسٹی گیشن آفیسر کو اس کے کام میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے، لیکن حقیقت میں آئی او کی طاقت کو کم کرنے اور اس کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔اس استعفیٰ کی وجہ سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں موجود غیر معمولی مشکلات اور چیلنجز ایک بار پھر اجاگر ہوئے ہیں۔ ایس آئی او ابراہیم حیدری فرید خان نے کہا کہ “میں حال ہی میں انویسٹی گیشن کا انچارج تھا اور ایسٹ زون کے ہائی اپس نے مجھے 173 سی آر پی سی کی رپورٹ ‘بی کلاس’ کے چالان کے طور پر جمع کرنے کا حکم دیا، جہاں انصاف پر مبنی تحقیقات کی جانی چاہیے تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “پولیس کا کام قانون کی بالادستی اور شفافیت کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے یہاں آئی او کی آزادی کو روک کر مفادات کی خدمت کی جاتی ہے، جس سے انویسٹیگیشن کے عمل میں سنگین مشکلات پیش آتی ہیں۔اس استعفے کے ساتھ ایس آئی او ابراہیم حیدری فرید خان نے پولیس کے اندرونی مسائل اور انویسٹی گیشن آفیسرز کی آزادی کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ ایک آئس برگ کی نوک ہے، اور انویسٹیگیشن آفیسرز کی حمایت اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ایس آئی او ابراہیم حیدری فرید خان نے اپنی خدمات سے استعفیٰ پیش کرنے کا فیصلہ انتہائی گھمبیر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے اور انہوں نے اپنی خدمات کے خاتمے کے لیے پولیس کے اعلیٰ حکام سے درخواست کی ہے کہ ان کا استعفیٰ قبول کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایس ایس پی شوکت کٹھیان کی سربراہی میںکمیٹی قائم کردی گئی۔

محمد علی فاروق گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ا ئی او ابراہیم حیدری فرید خان نے انویسٹی گیشن ا گیشن ا فیسرز انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا