محراب پور: قومی شاہراہ کا ترقیاتی کام سست روی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)قومی شاہراہ کے مرمتی کام میں سست روی، ٹریفک کی بندش نے مزید 4 معصوم افراد کو نگل لیا، دو خواتین، ایک بچے سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے، حادثہ ہالانی پولیس تھانہ کی حدود میں قومی شاہراہ پر کوء ٹہ گلاب ہوٹل کے پاس ہوا جہاں پر موٹر سائیکل ٹرالر کی زد میںآ گئی اس حادثے میں ٹرالر سے کچل کر 58 سالہ مسمات ماروی زوجہ محمد ابراہیم، 24 سالہ مسمات ساجدہ زوجہ محمد سجاد، 23 سالہ محمد عرفان ولد محمد ابراہیم اور, 4 سالہ محمد مدنی ولد محمد سجاد ٹرالر سے کچل کر جاں بحق ہو گئے ہالانی پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کاتعلق سگیوں شہر سے تھا جو ہالانی جا رہے تھے لیکن قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہونے کے باعث ٹرالر کی زد میں آ کر حادثے کا شکار ہو گئے نعش ضروری کارروائی بعد ورثاء حوالے کر دی ہے ٹرالر کو تحویل میں لیکر پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے، انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور نوشہرو فیروز کے کوآرڈنیٹر محمد سلیم مغل کے مطابق مورو سے کوٹری کبیر تک قومی شاہراہ کی مرمت کا کام سست روی سے ہورہاہے سہیون میں لعل شہباز قلندر کے میلے کی وجہ سے ٹریفک زیادہ ہونے کے باوجوداین ایل اے نے موثر اقدامات نہیں کیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی شاہراہ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔