ترکیہ کے دارالحکومت میں 35 سالہ رجب چنگیز نامی قیدی نے 10 دن کے لیے پیرول پر رہائی کے بعد اپنی ماں، بیوی اور 8 سالہ بیٹی کو بیدردی سے قتل کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کے بقول رجب چنگیز نے جیل میں خود کو ایک بدلا ہوا سنجیدہ شخص اور اپنے جرائم پر شرمندہ ذمہ دار شہری ثابت کیا تھا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ جیل میں رجب چنگیز نامی قیدی دھوکہ دہی اور مسلح دھمکیوں کے جرم میں چار سال قید کاٹ رہا تھا۔

جسے اچھے برتاؤ کے باعث 11 دن کے لیے عارضی طور پر رہائی ملی تھی۔ وہ رہا ہوتے ہی سب سے پہلے اپنے گھر گیا۔

جہاں اس کی حیوانیت غالب آگئی۔ اس نے 57 سالہ ماں سمیت 8 سالہ بیٹی کو بھی گولیاں مار کر بیدردی سے قتل کردیا۔

سفاک قیدی نے ماں اور بیٹی کی خون میں لت پت لاشوں کو گاڑی میں ڈالا اور اپنی بیوی کے گھر پہنچا جو اس سے طلاق لینے کے لیے اپنی میکے میں ہی رہ رہی تھی۔

رجب چنگیز نے اپنے سسرالی گھر میں گھس کر بیوی کو بھی گولیاں مار کر قتل کردیا اور قتل و غارت مچانے کے بعد خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کرلی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قاتل اور مقتولین کی لاشیں تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ 


 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رجب چنگیز

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم