Express News:
2026-07-24@02:00:49 GMT

ایران سے ڈیل پہلی ترجیح، ورنہ انجام سنگین ہوگا، ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اہم ملاقات کے بعد ایران سے ممکنہ معاہدے کو ترجیح دینے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں نیتن یاہو کے متعدد نمائندے بھی شریک تھے اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے اور اب دیکھا جا رہا ہے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

 

ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو ہم دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ 

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار ایران نے ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے "مڈنائٹ ہیمر" بمباری کا سامنا کرنا پڑا، جو ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں

امریکا نے ایرانی آئل ٹینکرز ضبط کرنے کا منصوبہ بنا لیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ اس بار ایران کا رویہ زیادہ ذمہ دارانہ اور معقول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔

ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات بدستور قائم ہیں، تاہم اس ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحد تاریخ میں پہلی بار 100 فیصد محفوظ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ونڈ انرجی کے حق میں نہیں ہیں اور توانائی پالیسی پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم حتمی نتیجہ ایران کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے کہا کہ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل