ایران سے ڈیل پہلی ترجیح، ورنہ انجام سنگین ہوگا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اہم ملاقات کے بعد ایران سے ممکنہ معاہدے کو ترجیح دینے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں نیتن یاہو کے متعدد نمائندے بھی شریک تھے اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے اور اب دیکھا جا رہا ہے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو ہم دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار ایران نے ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے "مڈنائٹ ہیمر" بمباری کا سامنا کرنا پڑا، جو ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔
مزید پڑھیںامریکا نے ایرانی آئل ٹینکرز ضبط کرنے کا منصوبہ بنا لیا، امریکی اخبار کا دعویٰ
امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ اس بار ایران کا رویہ زیادہ ذمہ دارانہ اور معقول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔
ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات بدستور قائم ہیں، تاہم اس ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحد تاریخ میں پہلی بار 100 فیصد محفوظ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ونڈ انرجی کے حق میں نہیں ہیں اور توانائی پالیسی پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم حتمی نتیجہ ایران کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔